پیانگ یانگ ، 4اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کرلیا۔میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گزر کر سمندر میں گرا۔ غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق شمالی کوریا نے10 روز میں میزائل کا پانچواں تجربہ کرلیا۔بیلسٹک میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گزر کر سمندر میں گرا۔ شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی تصدیق جاپانی کوسٹ گارڈز اور جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کی۔
شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے دوران جاپان کے شمالی علاقے میں سائرن بجائے گئے لوگوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں پہنچنے کے اعلانات کئے گئے۔جاپان کے کچھ شمالی علاقوں میں ٹرین سروس بھی معطل کردی گئی۔ شمالی کوریا کی جانب سے 2017 کے بعد سے فائر کیا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے جو جاپان کی فضائی حدود کراس کر کے سمندر میں گرا۔ جنوبی کوریا کے صدر نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کی ہے۔ امریکا ،جاپان اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
شمالی کوریا کا میزائل داغنا وحشیانہ کارروائی ہے: جاپان
ٹوکیو، 4اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)میزائل فائر کرنے پر جاپانی حکام نے شمالی علاقے ہوکائیڈو اور اوموری کے رہائشیوں سے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کو کہا۔ جاپانی دارالحکومت ٹوکیو اور سیول میں حکام نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا نے منگل کے روز جاپان پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ایک مشتبہ بیلسٹک میزائل فائر کر دیا۔ گرچہ یہ میزائل لانچ ممکنہ طور پر ایک تجربہ تھا۔لیکن منگل کی صبح سویرے جاپان میں حکام نے ہوکائیڈو اور اوموری جیسے شمالی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے احتیاطی طور پر محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ جاپانی حکومت نے اپنے جے-الرٹ سسٹم کی ایک غیر معمولی سرگرمی کے تحت کہا، ”ایسا لگتا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک میزائل لانچ کیا ہے۔
براہ کرم عمارتوں کے اندر یا پھر زیر زمین میں پناہ لیں۔جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے پیونگ یانگ کی ان لاپرواہ اشتعال انگیزیوں کی مذمت کی ہے جبکہ جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا نے میزائل فائرنگ کے واقعے کو وحشیانہ فعل قرار دیا ہے۔اس واقعے میں کسی بھی مالی نقصان یا چوٹ کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ بعد میں منگل کے روز ہی جنوبی کوریا کی وزارت یونی فیکیشن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے عام طور پر جو ہاٹ لائن استعمال ہوتی ہے، اس پر پیونگ یانگ اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دے رہا ہے۔جاپان میں چیف کابینہ سیکریٹری ہیروکازو ماتسونو نے بتایا کہ میزائل جاپان کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے بحرالکاہل میں جا گرا اور جزیرہ نما سے تقریباً 3,000 کلومیٹر کے فاصلے تک اس نے پرواز کی۔ جاپان اور جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ میزائل نے مجموعی طور پر 4500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
ماتسونو نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے بار بار تجربات سمیت اس کی دیگر سرگرمیاں جاپان، خطے اور عالمی برادری کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، نیز جاپان سمیت پوری عالمی برادری کے لیے ایک سنگین چیلنج بھی ہے۔امریکی قومی سلامتی کونسل نے اس میزائل لانچ کو خطرناک اور لاپرواہ اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ مشرقی ایشیا میں اعلیٰ امریکی سفارت کار اور امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے جنوبی کوریا اور اپنے جاپانی ہم منصبوں سے مشترکہ بین الاقوامی رد عمل کے بارے میں صلاح و مشورہ بھی کیا ہے۔



