بین الاقوامی خبریں

مردوں کا تعاقب کرنا، جنوبی کوریائی خواتین کے لیے درد سر

سیول ، 7اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جنوبی کوریائی خواتین نے شکایت کی ہے کہ ملک میں کمزور قوانین اور پدر شاہی معاشرے کی وجہ سے انہیں خطرہ ہے کہ خواتین کو برابر نہ سمجھنے والے مرد، انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول کی پولیس نے ابھی حال ہی میں جیئون جو ہوان نامی ایک شخص کو حراست میں لیا۔ اس پرایک خاتون کا تعاقب کرنے اور بعد ازاں اسے ایک پبلک ٹوائلٹ میں خنجر سے حملہ کر کے قتل کرنے کا الزام ہے۔ اس واقعے پرعوام کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔اس سلسلے میں پولیس اور عدالتی نظام پر اس لیے شدید تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مقتولہ کو تحفظ دینے میں ناکام رہے تھے۔

اٹھائیس سالہ مقتولہ نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران دو مرتبہ جیئون کے خلاف رپورٹ درج کرائی تھی اور قاتل اس کے باوجود بہت آسانی سے اسے ہراساں کرتا رہا۔اس واقعے کے ایک ہفتے بعد قتل کی یہ خبر منظر عام سے تقریباً غائب ہو چکی تھی اور شہری اسے صرف ایک جنونی کے عشق، مسترد کیے جانے اور ایک نوجوان خاتون کے قتل کا واقعہ سمجھ کر بھول چکے تھے۔ لیکن کوریائی خواتین کی ایک بڑی تعداد کے لیے یہ صرف ایک واقعے سے بڑھ کر تھا۔اس واقعے کی ابتدا اس وقت سے ہوتی ہے، جب تین سال قبل جیئون سیئول میٹرو میں نوکری شروع کی تھی۔

اس شہر کا سبوے نظام اسی کمپنی کے ہاتھوں میں ہے۔ اس نوکری کے دوران ہی قاتل کا اس خاتون سے پہلی مرتبہ سامنا ہوا تھا۔ مقتولہ کی شناخت کو مخفی رکھنے کے لیے اس کے نام کو اس رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا۔اس خاتون نے یہ ساری روداد اپنے آجر ادارے اور پولیس کو بتائی۔ اس کے بعد جیئون کو نوکری سے نکال دیا گیا اور پندرہ ستمبر کو اسے عدالت میں طلب کیا گیا تاکہ وہ اسٹاکنگ کے الزامات کا سامنا کرے۔ اگر اس پر تعاقب کرنے کے الزامات ثابت ہو جاتے تو اسے نو سال تک کی قید ہو سکتی تھی۔

اس خاتون کی بار بار درخواست کے باوجود پولیس نے عدالتی کارروائی شروع ہونے سے قبل جیئون کو حراست میں رکھنے سے انکار کر دیا۔ پولیس کا موقف تھا کہ جیئون سے اس خاتون کو بہت کم یا نہ ہونے کے برابر خطرہ ہے۔بتایا جاتا ہے کہ جس دن اکتیس سالہ جیئون کو سزا سنائی جانی تھی، اس سے ایک دن قبل وہ مرکزی سیئول کے سنڈانگ نامی ریلوے اسٹیشن گیا، جہاں وہ خاتون کام کیا کرتی تھی۔ اس پر یہ الزام بھی ہے کہ اس موقع پر وہ خاتون کو خنجر کے زور پر اسٹیشن کے ٹوائلٹ میں لے گیا اور وہاں اسے وار کے کر قتل کر دیا۔

ٹوکیو یونیورسٹی میں صنف اور شناخت کے شعبے کی ایک پروفیسر جیکی کم واشٹکا نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کوریائی معاشرے اور خاص طور پر خواتین کو صدمہ لگا تھا۔ ان کے بقول وقت گزرنے کے ساتھ اس احساس کی شدت میں کمی آئی اور کچھ دن بعد صرف یہ کہا جانے لگا کہ اوہ ایک اور واقعہ تھا۔ پروفیسر کا مزید کہنا ہے کہ اس میں غصے سے زیادہ پریشانی محسوس کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button