لندن ، 7اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران میں مہسا امینی کی پولیس تحویل میں ہلاکت پر ہونے والے احتجاج کے دوران ایک اور 16 سالہ لڑکی کی ہلاکت معمہ بن گئی ہے۔ عدالت نے اس ہلاکت کے لیے سیکیورٹی فورسز کو ذمے دار قرار دینے کے الزامات مسترد کر دیے ہیں جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ایران سے باہر قائم فارسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیکا شاکرمی Nika Shakarami کے اہل خانہ کو ان کی آبائی علاقے میں تدفین کے لیے جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی جب کہ نیکا شاکرمی کے دو قریبی رشتے داروں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔نیکا شاکرمی کی خالہ آتش شاکرمی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ احتجاج کے دوران 20 ستمبر کو نیکا شاکرمی گھر سے لاپتہ ہوگئی تھیں۔
اس کے دس روز بعد ان کے اہلِ خانہ کو حکام نے نیکا شاکرمی کی لاش ملنے کی اطلاع دی تھی۔گزشتہ ماہ ستمبر میں ایران کی اخلاقی پولیس ’گشتِ ارشاد‘ کی حراست میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاج میں شدت آرہی ہے۔ ایران سے باہر کئی ممالک میں ایران میں جاری مظاہروں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج کیا جارہا ہے۔حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے کئی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج کیخلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے باعث درجنوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
نیکا شاکرمی بھی حجاب کی پابندیوں کے خلاف تہران میں جاری ایک احتجاج میں شریک ہوئی تھیں جس کے بعد لاپتا ہوگئی تھیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق نیکا کی خالہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی ایک دوست کو جو آخری پیغام بھیجا اس میں بتایا تھا کہ سیکیورٹی اہل کار ان کا تعاقب کررہے ہیں۔آتش شاکرمی کے مطابق اس واقعے کے 10 روز بعد نیکا کی لاش ملنے کی اطلاع ان کے اہل خانہ کو ملی تاہم جب وہ ان کی شناخت کے لیے پہنچے تو حکام نے چند لمحوں کے لیے صرف نیکا کا چہرہ دیکھنے کی اجازت دی تھی۔\
بعد ازاں ان کے اہل خانہ نے نیکا شاکرمی کی لاش مغربی ایران میں خرم آباد میں آبائی گاؤں منتقل کر دی جہاں اتوار کو ان کی تدفین ہونا تھی اور اسی دن نیکا کی 17 ویں سالگرہ بھی تھی۔حکام کی جانب سے سخت دباؤ کے باعث نیکا کے اہل خانہ نے ان کی آخری رسومات میں دیگر عزیز رشتے دار یا اہل علاقہ کو شامل نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم اس کے باوجود حکام نیکا کی میت اہلِ خانہ سے چھین کر لے گئے اور ان کی تدفین کردی۔
نیکا کی ایک ہم جماعت نے بتایا کہ نیکا کی گمشدگی سے پہلے دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ احتجاج میں شریک ہوئی تھی اور نیکا نے اپنا اسکارف بھی نذرِ آتش کردیا تھا۔ تاہم اس آخری رابطے کے بعد ان کا فون مسلسل بند جارہا تھا اور کسی کو ان کا اتا پتہ نہیں تھا۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بدھ کو نیکا شاکرمی کی ہلاکت کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر آٹھ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ تاہم ایران کی عدلیہ نے مہساامینی کے معاملے پر ہونے والے احتجاج اور نیکا شاکرمی کے موت کے درمیان تعلق کو مسترد کردیا ہے۔



