ریاض ، 12اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوپیک پلس ممالک نے ذمہ داری سے کام کیا اور مناسب فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اوپیک پلس ممالک مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور پروڈیوسروں اور صارفین کے مفادات کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اسٹریٹجک ہیں اور خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد پرقائم ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان فوجی تعاون دونوں ممالک کے مفادات کے لیے جاری ہے اور اس نے خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات ادارہ جاتی ہیں جب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم ہیں۔روس- یوکرائن جنگ پر انہوں نے کہا کہ ہم تنازع کو روکنے کے لیے یوکرینی بحران کے فریقین کو بات چیت کی طرف لانا چاہتے ہیں۔
یمنی بحران کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ یمن میں جنگ بندی میں توسیع کی کوششیں ابھی تک جاری ہیں۔ یمنی حکومت نے یمن کے مفاد کے حوالے سے ایک اعلی ذمہ داری کے ساتھ بڑی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ابھی تک ٹھوس نتائج تک نہیں پہنچی ہے اور ہم مذاکرات کے چھٹے دور کی طرف دیکھ رہے ہیں۔چین کے ساتھ تعلقات پر بن فرحان نے بتایا کہ چین کے ساتھ تعلقات پہلی سطح پر اقتصادی ہیں اور ہمارے پاس بہت سے مشترکہ اقتصادی منصوبے ہیں۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عراق میں جاری سیاسی بحران جلد ختم ہوگا۔
سعودی عرب کو تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے نتائج بھگتنا ہوں گے: صدر بائیڈن
واشنگٹن ، 12اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو روس کے ساتھ مل کر تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے اعلان کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو منگل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر بائیڈن نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات پر نظرثانی کی جائے۔صدر بائیڈن نے کہا کہ میں اس بات کی گہرائی میں نہیں جا رہا کہ میں کیا سوچوں گا اور میرے ذہن میں کیا ہے لیکن سعودی عرب نے جو کیا ہے اس کے نتائج ہوں گے۔
‘واضح رہے کہ عالمی سطح پر لگ بھگ 44 فیصد تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک نے گزشتہ ہفتے تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کمی کا اعلان کیا تھا جس پر امریکہ نے شدید تنقید کی تھی۔اوپیک کے اس اعلان سے امریکہ میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔انٹرویو کے دوران صدر بائیڈن نے اشارہ دیا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد کانگریس سعودی عرب کے اقدامات پر ایکشن لے گی اور وہ خود بھی اس ایکشن کا حصہ ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرن جین پیری نے منگل کو پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ روس کی جنگ کے تناظر میں کیا ہے جس کے بعد امریکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا دوبارہ جائزہ لے گا۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھال اور ری پبلکن سینیٹر رو کھنا نے ایوان میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کو ایک سال کے لیے امریکی ہتھیاروں کی فروخت روک دی جائے۔
بل میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ سعودی عرب کو اسپیئر اور ریپئر پارٹس سمیت ہر قسم کی خدمات اور لاجسٹک سپورٹ بند کی جائے۔واضح رہے کہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور صدر بائیڈن نے تمام تر تنقید کے باوجود رواں برس کے اوائل میں ریاض کا دورہ بھی کیا تھا۔امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے فارن ریلیشن کے چیئرمین سینیٹر رابرٹ میننڈیز کا کہنا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی ناقابل قبول ہے کیوں کہ اس سے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں مدد مل رہی ہے۔سینیٹر رابرٹ نے وعدہ کیا کہ وہ سعودی عرب کو مستقبل میں امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے اقدام کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کو یقینی بنائیں گے۔
امریکہ کے اپنے مخالفین سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں، سروے میں انکشاف
نیویارک ، 12اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک نئے عوامی جائزے کے مطابق بالغ امریکی شہریوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ امریکہ کے روس اور شمالی کوریا جیسے غیر ملکی مخالفین کے ساتھ تعلقات مزید معاندانہ ہوں گے۔چار سال قبل کے مقابلے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ صدر تھے، اس تناسب کو رائے عامہ میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا ر ہا ہے۔پیرسن انسٹیٹیوٹ اور ایسو سی ایٹڈ پریس۔ این او آر سی سینٹر فار پبلک افئیرز ریسرچ کے عوامی جائزے کے مطابق بائیڈن حکومت کے دو برسوں میں امریکہ کے 60 فیصد بالغ افراد کہتے ہیں کہ مخالفین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بدتر ہوں گے۔اس کے مقابلے میں چار برس قبل ٹرمپ حکومت کی اتنی ہی مدت پوری ہونے کے موقع پر لئے گئے جائئزے کے مطابق 26 فیصد سے زیادہ لوگ یہ سوچ رکھتے تھے۔
دوسری طرف نئے سروے کے مطابق 21 فیصد امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آئے گا۔ یہ تناسب چار سال قبل یہ ہی بات کہنے والے 46 فیصد لوگوں سے نمایاں طور پر کم ہے۔عمومی طور پر 39 فیصد لوگوں کو توقع ہے کہ عالمی سطح پر ملک کی حیثیت میں کمی آئے گی۔ جبکہ 2018 میں 48 فیصد رائے دہندگان نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔یہ بات اہم ہے کہ امریکہ کی اپنی انتہائی منقسم اندرونی سیاست بیرون ملک امریکہ کی حیثیت کے بارے میں خیالات کو متاثر کرتی ہے۔
سیاسی امور کی ماہر اور شکاگو میں قائم عالمی جھگڑوں کے مطالعے اور حل کے پیرسن انسٹیٹیوٹ کے گلوبل فورم کی ڈائیریکٹر شیلا کو ہین ٹب کہتی ہیں کہ ان نتائج سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتہائی نوعیت کی جماعتی سوچ ہے،جو ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز کی اس بارے میں سوچ کو متاثر کرتی ہے کہ وہ بیرون ملک امریکہ کی حیثیت کو کس انداز میں دیکھتے ہیں۔نارتھ کیرولائنا کے مقام ونسٹن سیلم کی 30 سالہ ریپبلیکن کرسٹی ووڈ ورڈ کہتی ہیں کہ دوسرے ملک شاید ہم پر ہنس رہے ہوں۔ ہماری ٹوٹ پھوٹ کا انتظار کر رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر بائیڈن کی زیر قیادت معیشت اور اور امریکہ کی قائدانہ حیثیت کا نقصان ہوتے دیکھ رہی ہیں
سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ برقرار رکھنا ہمارے مفاد میں ہے: وائٹ ہاؤس
واشنگٹن، 12اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کو برقرار رکھنا امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کو برقرار رکھنا ہمارے مفاد میں ہے۔ مملکت میں 70 ہزار امریکی مقیم ہیں۔جان کربی نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کو ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ روس یوکرین کی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ روسی افواج کی بیلاروس کی طرف کی نقل و حرکت کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ ایک کے سوال کے جواب میں جان کربی نے یوکرین کیلئے فرانس کی مسلسل حمایت کی تعریف کی۔



