بیروت، 14اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لبنانی صدر میشل عون نے اپنے ملک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سمندری سرحدی حد بندی کے معاہدے کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش نہیں بلکہ یہ لبنان کے وسیع تر قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔گذشتہ روز معاہدے کی منظوری کے موقع پر ایک تقریر میں میشل عون نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد اور ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے مجھے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے اسرائیل کی منظوری سے آگاہ کرنے کے بعد میں نے سرحدوں کی حد بندی کے لیے امریکی ثالث کے تیار کردہ حتمی فارمولے کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
عون نے اس معاہدے کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس سے لبنانی مفادات اور مطالبات پورے ہوں گے اور ہمارے حقوق کا تحفظ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے لبنان نے متنازع علاقہ کا 860 مربع کلومیٹر واپس حاصل کیا ہے۔مسٹر عون نے کہا کہ اس معاہدے میں ہماری زمینی سرحدوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ لبنان نے 2000 میں اسرائیل کی جانب سے قائم کردہ لائن کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ نہ ہی اس کے ساتھ کوئی براہ راست بات چیت یا معاہدہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ دونوں اطراف کی سرحدوں میں استحکام لائے گا۔
عون نے اس بات کی توثیق کی کہ معاہدے کے ذریعے لبنان نے آرڈر نمبر 6433 کے تحت اعلان کردہ اپنی سرحدوں، اس کے تمام بلاکس اور پورے قانا فیلڈ کو محفوظ رکھا ہے۔ اس کے علاوہ لبنانی پانیوں میں ڈرلنگ کی سرگرمیاں فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی امریکی اور فرانسیسی ضمانتیں بھی حاصل کی ہیں۔میشل عون نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کا اختتام جسے انہوں نے مثبت انجام کے طور پر بیان کیا ہے "ایک امید افزا آغاز کی نمائندگی کرے گا۔ \
یہ معاہدہ ایک ایسی اقتصادی بحالی کی بنیاد رکھے گا جس کی لبنان کو تیل اور گیس کی تلاش مکمل کر کے ضرورت ہے۔عون نے کہا کہ آنے والے دنوں میں، فرانس کی ٹوٹل کمپنی کو قانا کے میدان میں تیل کی تلاش کا کام شروع کرنا پڑے گا کیونکہ اس نے وعدہ کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پورا قانا فیلڈ بغیر کسی معاوضے کے حاصل کر لیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پورا فیلڈ ہمارے پانیوں میں نہیں ہے۔اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں واقع قانا گیس فیلڈ کے ایک حصے کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔لبنانی صدر نے مزید کہا کہ خصوصی اقتصادی زون میں آئل فیلڈز 8، 9 اور 10 کو خطرہ لاحق تھا، لیکن معاہدے کی بدولت ہم انہیں محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے اور ہم ان میں پوری طرح سرمایہ کاری کریں گے۔
امریکی پابندیوں کا شکار لبنانی پارلیمنٹرین لبنان -اسرائیل مذاکرات کا حصہ رہا
لندن، 14اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والے لبنانی مسیحی رکن پارلیمنٹ جبران باسل نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمندری سرحد کا تنازع طے کرنے کے لیے پس پردہ کردار ادا کیا تھا۔ باسل کے بقول اس غرض کے لیے میں نے حز ب اللہ کے ساتھ روابط قائم کیے تھے۔جبران باسل لبنان کے سابق وزیر ہیں، ان پر 2020 میں مبینہ طور پر حز ب اللہ کو کرپشن میں اور دوسری سرگرمیاں مین مدد دینے کے الزام میں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ باسل کا کہنا ہے امریکی پابندیاں لگنے کے باوجود انہوں نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی مدد سے ہونے والے مذاکرات میں پس پردہ کردار ادا کیا ہے۔ان کا کہنا تھا یہ کوئی بڑی بات نہیں وہ اسے ایک معمول کی بات سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کیا۔
ہر شخص یہ بات جانتا ہے، یہ میری ذمہ داری اور فرض تھا، جو میں نے ادا کیا۔لبنانی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کیونکہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہ سکتا تھا اور ہم اس میں کامیاب ہوئے اور مذاکرات حتمی مرحلے کو پہنچے۔واضح رہے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو تینوں فریقوں نے سراہا ہے۔ باسل نے اس بارے میں کوئی متعین بات تو نہیں کہی کہ انہوں نے مذاکرات میں کس طرح حصہ لیا تاہم یہ ضرور کہا کہ وہ اس دوران حزب اللہ کیساتھ جڑے رہے۔
حزب اللہ کا رویہ بھی بہت مثبت رہا۔ علاوہ ازیں بھی میرا کئی لوگوں کے ساتھ رابطہ رہا۔تاہم رکن پارلیمنٹ باسل کے ان خیالات پر امریکہ یا حزب اللہ کی طرف سے ابھی تک کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ باسل کی سیاسی جماعت حزب اللہ کی اہم اتحادی جماعت ہے۔انہوں نے امریکی پابندیوں کے بارے میں کہا، انہیں کوئی فکر نہیں، یہ ناجائز پابندیاں ہیں جلدی ختم ہو جائیں گی۔



