
ریاض ، 14اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حوثی ملیشیا نے تین ہفتے بعد اسمگل شدہ اور معیاد ختم ہونے والی ادویات کے انجکشن لگانے سے کینسر کے مریض 10 بچوں کی موت کا اعتراف کرلیا۔تین ہفتے قبل اس وقت شدید عوامی غم و غصہ سامنے آیا تھا جب میڈیکل اور میڈیا ذرائع نے بتایا تھا کہ ایک انجکشن لگانے کے باعث 45 بچوں میں سے 18 بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔اب جمعرات کے روز حوثی ملیشیا کی حکومت کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ خون کے ٹیومر والے 3 سے 15 سال کی عمر کے ایک انجکشن کے باعث دس بچے فوت ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ حوثی ملیشیا کی وزارت صحت کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ نہیں ہے۔حوثی وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صنعاء کے کویت ہسپتال میں 19 بچوں کو اسمگل شدہ ادویات کے انجکشن لگائے گئے تھے۔ وزارت نے کہا ہے کہ اس حوالے سے تحقیقات کے نتائج سے استعمال شدہ ادویات جراثیم سے آلودہ تھیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حوثی ملیشیا نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں کا اسمگل شدہ اور بدعنوان ادویات کی منڈی کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
اس کی قیادت جعلی ادویات اور اسمگلنگ اور تجارت کے ذریعہ دولت کما رہی۔ ان ادویات سے ہزاروں مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑ چکی ہے۔حوثی ملیشیا نے دواسازی کی تجارت پر اپنا کنٹرول سخت کر لیا ہے۔ دواسازی کی مارکیٹ پر اثنا رسوخ بڑھا کر ادویات کی سپلائی اور تقسیم حوثی ملیشیا کی ذیلی کمپنیوں کے ذریعے کی جارہی ہے۔ ان شعبہ کی نگرانی حوثی رہنماؤں کے پاس ہے۔یمنی تنظیم برائے انسداد انسانی سمگلنگ نے الزام عائد کیا تھا کہ صنعا میں حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول وزارت صحت نے زائد المیعاد ادویات کو تاریخ کو تبدیل کرکے دوبارہ مارکیٹ میں بھیج دیا ہے۔
یہ ادویات سے کینسر کے مریض بچوں کی اموات کا سبب بن رہیں۔بچوں کی اموات کے بعد صنعا میں حوثی حکام پر جرم کو چھپانے اور اس کے بارے میں کسی بھی معلومات کی اشاعت کو روکنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بین الاقوامی تنظیموں نے کویت ہسپتال کے فیلڈ وزٹ اور معاملے کی تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔



