واشنگٹن ، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار بے ربط ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ ملک دنیا کے سب سے زیاد خطرناک ملکوں میں سے ایک ہو۔جمعرات کو ڈیمو کریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ کیا کسی نے سوچا تھا کہ آج ہم یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ چین ، ہندوستان، روس اور پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کو کس طرح آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہو۔بائیڈن کا کہنا تھا کہ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ کسی بھی امریکی سربراہِ مملکت سے زیادہ وقت گزارا ہے۔ ان کے ساتھ گزشتہ 10 برسوں میں ہونے والی ملاقاتوں کا دورانیہ 78 گھنٹے ہے جن میں سے 68 گھنٹے ون آن ون ملاقاتوں کے تھے۔
صدر بائیڈن نے چینی صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ بہت سے مسائل ہیں، لہٰذا ہم انہیں کیسے ہینڈل کریں؟ روس میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہم کیسے نمٹیں؟ اور میرا خیال ہے کہ دنیا کیسب سیخطرناک ملکوں میں سے ایک، پاکستان ہو ، جس کے جوہری ہتھیار بے ربط ہیں۔بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس ساری صورتحال میں بہت کچھ ہو رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے پاس اکیسویں صدی کے دوسرے کوارٹر میں ان حالات میں تبدیلی کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔
صدر بائیڈن نے خطاب میں کہا کہ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم ان حالات کو کیسے سنبھال سکتے ہیں، آپ میں سے کئی نے یہ پہلے بھی سن رکھا ہو گا جو میں نے صدر بننے کے بعد دنیا کی سات بڑی جمہوریتوں کے فورم جی سیون سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب امریکہ واپس آ گیا ہے۔صدر بائیڈن کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اُن کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بات ہوئی ہے اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو دفترخارجہ طلب کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈیمارش ان کے حوالے کیا جائے گا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے طے کردو اصولوں کے مطابق اپنے جوہری پروگرام کا تحفظ یقینی بنا رکھا ہے۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو پاکستان کے بجائے بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کی بات کرنی چاہیے تھے، جس کی جانب سے غلطی سے داغے جانے والا میزائل پاکستانی حدود میں گرا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان سے مایوسی ہوئی اور یہ اسی وجہ سے ہے کہ امریکی صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستانی حکام سے رابطے نہیں رکھے۔اس سے قبل وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے ہفتے کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی صدر کے پاکستان سے متعلق شکوک و شہبات بے بنیاد ہیں۔
صدر بائیڈن کا بیان:امریکی سفیر کو طلب کر کے ڈی مارش دیں گے: وزیر خارجہ بلاول بھٹو
اسلام آباد، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جس کا ایٹمی پروگرام بے قاعدہ ہے۔جمعے کو ڈیموکریٹک کانگریشنل کمپین کمیٹی کی ایک فنڈ ریزنگ تقریب میں تقریر کرتے ہوئے امریکی صدر نے چین اور روس کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا حوالہ دیا۔دوسری جانب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے بیان پر پاکستان میں امریکی سفیر کو طلب کر کے ڈی مارش دیں گے۔
سنیچر کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر کے بیان پر وزیراعظم سے بات کی ہے۔ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو وزارت خارجہ طلب کر کے ڈی مارش دیں گے۔پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ ایٹمی پروگرام کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے اور بین الاقوامی ادارے اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔
انہوں نے سنیچر کو گوجرانوالہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر بائیڈن کے پاکستانی ایٹمی پروگرام پر شکوک و شبہات بے بنیاد ہیں۔صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارا ہے۔ اتنا وقت شاید ہی کسی نے دنیا میں کسی سربراہ مملکت کے ساتھ گزارا ہو۔ میں نے ان کے ساتھ گزشتہ دس برسوں میں 78 گھنٹے گزارے جن میں سے 68 گھنٹے اکیلے میں تھے۔ کیونکہ باراک اوباما جانتے تھے کہ وہ کسی نائب صدر کے ساتھ ڈیل نہیں کریں گے۔
اس لیے انہوں نے مجھے ذمہ داری سونپی۔ میں نے اْن کے ساتھ 17 ہزار میل کا سفر کیا۔امریکی صدر نے تقریب میں شریک سینیٹرز کو مخاطب کر کے کہا کہ دُنیا بدل رہی ہے اور تیزی سے بدل رہی ہے۔ اور یہ قابو سے باہر ہے، اور یہ کسی ایک فرد یا ایک قوم کی وجہ سے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’آپ جانتے ہیں، امریکی ریاستوں کی تنظیم کو دیکھئے، وہاں کیا ہو رہا ہے۔ دیکھئے کہ نیٹو اور دیگر ممالک کے حوالے سے دنیا بھر میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ ملک دنیا میں اپنی حیثیت کے حوالے سے ازسر نو غور کر رہے ہیں۔ درحقیقت کیا ہے اور وہ کس اتحاد میں ہیں۔جو بائیڈن نے کہا کہ ’بین الاقوامی سطح پر اس معاملے میں بہت کچھ ہے، بہت کچھ۔ اور بہت کچھ ہو رہا ہے۔
ایران اپنے شہریوں پر تشدد بند کرے:ایران مخالف مظاہرین کے جتھے سے جوبائیڈن کا کیلیفورنیا میں خطاب
نیویارک، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں پر غیر معمولی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ایران میں ایسا برسوں بعد ہوا ہے۔ یہ اس قدر بڑا احتجاج ایک بائیس سالہ ایرانی خاتون کی موت کی وجہ سے آج ایران میں دیکھا جا رہا ہے۔صدر جو بائیڈن نے ان خیالات کا اظہارکیلی فورنیا میں ایران کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ایک جتھے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو ایران آزاد کرو کے کتبے اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا ‘میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ جان لیں کہ ہم شہریوں کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم ایران کی بہادر خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں۔امریکی صدر نے کہا ‘ایران میں اس اتنی بڑی بیداری پر حیران ہو گیا ہوں۔
‘ یہ ایسی بیداری ہے جس کا میں نہیں سوچتا تھا۔ اس نے ایران کو ایسا بیدار کر کر دیا ہے اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اب زیادہ دیر تک خاموشی رہ سکے گی۔واضح رہے ایران میں یہ مظاہرے ٹھیک ایک ماہ پہلے سے جاری ہیں۔ ایرانی اخلاقی پولیس نے ایک کرد ایرانی لڑکی بائیس سالہ مہسا امینی کو سرپر اسکارف نہ لینے کے باعث گرفتار کر لیا تھا۔ جو بعد ازاں پولیس حراست کے دوران ہی ہلاک ہو گئی۔تب سے اب تک احتجاجی مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ان احتجاجی مظاہروں میں شریک لوگوں میں سے اب تک بیسیوں ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس صورت حال کو بے لگام وحشیانہ کریک ڈاؤن کا نام دیا ہے۔ ایرانی مظاہروں میں بیسیوں مارے جانے والے مظاہرین میں 23 سے زائد بچوں کے بھی مرنے کی اطلاعات ہیں۔صدر جو بائیڈن نے ایرانی مظاہروں پر مختصر خطاب یہ بھی کہا ‘خواتین کو دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے مظالم کا شکار بنایا جار یا ہے، لیکن میں کہوں گا خواتین کو خدا کے نام پر وہی پہننے دیں جو وہ پہننا چاہتی ہیں۔ ایران کو اپنے شہریوں کے خلاف تشدد بند کرنا ہو گا کہ اس کے شہری اپنے حقوق بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔



