لندن ، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مغربی میڈیا کے مطابق یوکرین کے قومی مزاحمتی مرکز نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی ڈرون انسٹرکٹر روس پہنچ کر روسی فوجیوں کو ایرانی ڈرونز چلانے کی تربیت دے رہے ہیں۔یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف کے مغربی شہر ماکریف میں ڈرون طیاروں کی مدد سے کیے گئے تین حملے ایرانی خود ڈرونز سے کیے گئے تھے۔یوکرین کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ہفتے کے دوران روس نے یوکرین میں مختلف مقامات پر 136 ڈرون حملے کیے ہیں۔ یوکرینی دعوے کے مطابق روس ایرانی ڈرون انسٹرکٹرز سے مقبوضہ خیرسن اور کریمیا کے علاقوں میں مدد لے رہا ہے۔یوکرین کے قومی مزاحمتی مرکز کے مطابق ایرانی انسٹرکٹرز روسی فوجیوں کو ڈرون کے استعمال کے علاوہ مانیٹرنگ کی بھی تربیت دے رہے ہیں۔
یہ اطلاع یوکرینی فوج کے چلائے جانے والے ایک ویب سائٹ بھی پیش کی گئی ہے۔ اس کے مطابق ایرانی شہری یوکرین کے زیر قبضہ لیے گئے علاقوں زالزنیف پورٹ، خیرسن کے علاقے حالدیوٹسی اور کریمیا میں تعینات روسی فوجیوں کے ہمراہ ہیں۔جو یوکرینی شہروں پر کیے جانے والے ڈرون حملوں کا براہ راست حصہ ہیں۔ ان حملوں کے ذریعے یوکرینی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یوکرین نے الزام لگایا ہے کہ ایران نہ صرف جارحیت کے مرتکب یوکرین کو آلات جنگ دے رہا ہے بلکہ اپنی اپنے شہریوں کو بھی روس کی مدد کے لیے بھیج رہا ہے۔
دوسری جانب ایران روس کو ڈرون دینے کی تردید کرتا ہے۔ تاہم روس نے اس بارے کوئی تردید کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔جمعرات کے روز فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کی طرف سے روس کو ڈرون فروخت کرنا سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے روس کو سینکڑوں ڈرون دیئے ہیں۔
میدان جنگ میں ’ہار‘ سے دوچار روس کچھ بھی کر سکتا ہے: جنرل کلارک
واشنگٹن ، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک ایسے وقت میں جب روسی صدر یوکرین کی جنگ جیتنے کیلئے ہر حربہ آزمانے کا اعادہ کر رہے ہیں، یورپ میں اتحادی فوجوں کے سابق امریکی کمانڈر جنرل ویسلی کلارک نے بتایا ہے کہ صدر پوٹن مغرب کو دھمکانے اور یوکرین کو مغربی حمایت سے محروم کرنے کے لئے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کر رہے ہیں، لیکن میدان جنگ میں اس سب کا کیا نتیجہ نکلتا ہے وہ اہم ہے۔جنرل ویسلی نے کہا کہ اس وقت روس میدان جنگ میں ہار رہا ہے،چنانچہ یہ بات بہت اہم ہے کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک یوکرین کی فوجی اور مالی مدد جاری رکھیں۔
جب سوال کیا گیا کہ جب پوٹن ایٹمی جنگ کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ آپ کے خیال میں سنجیدہ ہیں یا محض جھانسہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جنرل کلارک نے کہا کہ یہ پہلو تشویشناک ہونا چاہیے۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ فریب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ممکن ہے کہ وہ جب بھی طے کریں، جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنا ان کے بہترین مفاد میں ہے۔ لیکن اب تک انہوں نے جوہری ہتھیاروں کو استعمال نہیں کیا ہے،اور ہمیں اس بات سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی بات کر رہے ہیں۔
ہمیں یو کرین کی مدد جاری رکھنی چاہیے ، یوکرین کو روس کو اپنے ملک سے نکالنے کے جس کی اسے روس کو یوکرین سے نکالنے کے لئے ضرورت ہے اور جب روسی میدان جنگ میں ہاریں گے تو ان جوہری ہتھیاروں کے کوئی زیادہ معنی نہیں رہ جائیں گے۔دریں اثنا روسی صدر ولاڈی میر پوٹن نے جمعے کے روز کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ یوکرین میں اپنی فوجوں کی تعداد بڑھانے کے لئے انہوں نے ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کا جو حکم دیا تھا، اس کے تحت آئندہ دو ہفتے میں فوجیوں کی مطلوبہ تعداد مکمل ہو جائے گی۔



