بین الاقوامی خبریں

عالمی سیاست میں سرد جنگ کی ذہنیت کی مخالفت کرتے ہیں: چین

بیجنگ، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے ذکر کیے بغیر کہا ہے کہ بیجنگ نے عالمی سفارت کاری میں ’سرد جنگ کی ذہنیت‘ کی مخالفت کی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کو شی جن پنگ نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں کمیونسٹ پارٹی کے مندوبین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چین ہر طرح کی بالادستی اور طاقت کی سیاست کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، سرد جنگ کی ذہنیت کی مخالفت کرتا ہے، دوسرے ممالک کی ملکی سیاست میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے، دوہرے معیار کی مخالفت کرتا ہے۔

تائیوان کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ’چین کبھی بھی تائیوان پر طاقت کے استعمال کو ترک کرنے کا عہد نہیں کرے گا۔ تائیوان کے مسئلے کو حل کرنا چینی عوام کا معاملہ ہے اور اسے چینی عوام کو ہی حل کرنا چاہیے۔’ہم سب سے زیادہ خلوص اور عظیم کوششوں کے ساتھ پرامن اتحاد کے امکانات کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے تاہم طاقت کے استعمال کو ترک کرنے کا کبھی بھی عزم نہیں کریں گے اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا اختیار محفوظ رکھیں گے۔

چینی صدر کے بقول ’چین خود مختار، جمہوری تائیوان کو اپنی سرزمین کے حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بدعنوانی کے خلاف ان کے کریک ڈاؤن نے ملک کی حکمران کمیونسٹ پارٹی اور فوج کے اندر موجود ’سنگین خفیہ خطرات‘ کو ختم کر دیا ہے۔شی جن پنگ نے بتایا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ نے زبردست فتح حاصل کی ہے اور اسے جامع طور پر مضبوط کیا گیا ہے جس سے پارٹی، ریاست اور فوج کے اندر موجود سنگین خطرات کو ختم کیا گیا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ کا مزید کہنا تھا کہ بیجنگ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جنگ کے لیے پْرعزم ہے۔کورونا وائرس کی وبا کو قابو کرنے کے لیے ’صفر پالیسی‘ پر چین کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس حوالے سے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ’چین نے وبائی مرض سے نمٹنے کے دوران لوگوں اور ان کی زندگیوں کو سب سے پہلے رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے عوام کی حفاظت اور صحت کی اعلیٰ ترین سطح تک حفاظت کی ہے اور وبا کی روک تھام اور سماجی اور اقتصادی ترقی میں ہم آہنگی کے لیے اہم مثبت نتائج حاصل کیے ہیں۔

چین کے صدرشی کا تیسری پانچ سالہ مدت کے لیے سربراہ بننے کا امکان روشن : مبصرین

بیجنگ، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چینی صدر شی جن پنگ نے اتوار کے روز حکمران کمیونسٹ پارٹی کے پانچ سالہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک کی موجودہ اور مستقبل کی پالیسیوں کا مختصر احاطہ کیا۔ انہوں نے کووڈ 19 کے خلاف لڑائی کو زور دیا جبکہ نجی شعبے کی حمایت کا اعادہ کیا اورمارکیٹوں کے کلیدی کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی کی ، جو ایک اعتبار سے چین کے بنیادی سوشلسٹ معاشی نظام کو تبدیل کر رہا ہے۔کانگریس کے اس اجلاس میں تیسری بارپارٹی کی قیادت کی مدت میں توسیع کی توقع کی جا رہی ہے جو ماؤ زے تنگ کے بعد ملک کے سب سے طاقتور حکمران کے طور پر شی کی حیثیت کو مستحکم کرے گی۔

اس اجلاس میں ملک بھر سے تقریباً 2,300 مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔صدرشی نے اپنے خطاب میں ہانگ کانگ میں پارٹی کے حالات پر قابو پانے کی بھی تعریف کی۔ تائیوان کے بارے میں، شی نے کہا کہ ہم نے ریاستی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کے تحفظ اور تائیوان کی آزادی کی مخالفت کرنے کے اپنے مضبوط عزم اور صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علیحدگی پسندی اور مداخلت کے خلاف ایک بڑی جدوجہد کی ہے۔

شی نے کہا کہ 9 کروڑ 60 لاکھ ارکان پر مشتمل پارٹی نے انسانی تاریخ میں غربت کے خلاف سب سے بڑی جنگ جیتی ہے۔اپنے ایک دہائی کے اقتدار میں، 69 سالہ شی نے چین کو تیزی سے آمرانہ راستے پرگامزن کیا ہے جس نے مشترکہ خوشحالی کے نام پر سلامتی اور معیشت پر ریاستی کنٹرول کو ترجیح دی ہے۔ تائیوان کی حکومت کے خلاف جارحانہ سفارت کاری اور مضبوط فوجی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔صدر شی نے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک اعلیٰ سطحی سوشلسٹ مارکیٹ کا معاشی نظام بنانا چاہیے۔

عوامی ملکیت کے نظام کو غیرمتزلزل اورمضبوط کرنا چاہیے، نجی معیشت کی ترقی کی غیرمتزلزل حوصلہ افزائی اور حمایت کرنا چاہیے، وسائل کی تقسیم میں مارکیٹ کے فیصلہ کن کردار کو پورا کرنا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے کردار کو بہتر انداز میں ادا کرنے ضرورت پر زور دیا۔شی نے 2018 میں صدارتی مدت کی حدود کو ختم کر دیا تھا، جس سے ان کے لیے تیسری پانچ سال یا اس سے زیادہ مدت کے لیے حکومت کرنے کا راستہ صاف ہو گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button