بین الاقوامی خبریں

بائیڈن ایران میں افراتفری اور دہشت گردی کو ہوا دے رہے: ایرانی صدر

میں بائیڈن کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایران اتنا مضبوط اور ثابت قدم ہے کہ وہ آپ کی سخت سزاؤں اور مضحکہ خیز دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ گندے پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے عادی ہیں، لیکن یاد رکھیں، یہ ایران ہے، جو قابل فخر مردوں اور عورتوں کی سرزمین ہے۔

تہران، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’’ارنا‘‘ نے کہا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن ایران میں افراتفری، دہشت گردی اور تباہی کو ہوا دے رہے ہیں۔اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے بائیڈن کی جانب سے مظاہروں کی حمایت کے اعلان کو ریاست کے معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔ایرانی ترجمان وزارت خارجہ نے کہا امریکہ کے صدر نے کل بار بار مداخلت کرنے والے بیانات کے ذریعے ایران میں بدامنی کی حمایت کی ہے۔ چونکہ ان کے پاس قابل اعتماد مشیر نہیں ہیں اور ان کی یادداشت اچھی نہیں ہے۔

میں بائیڈن کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایران اتنا مضبوط اور ثابت قدم ہے کہ وہ آپ کی سخت سزاؤں اور مضحکہ خیز دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ گندے پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے عادی ہیں، لیکن یاد رکھیں، یہ ایران ہے، جو قابل فخر مردوں اور عورتوں کی سرزمین ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حجاب نہ کرنے پر مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر حراست میں موت کے بغد ایران میں کئی مسائل پر غصے کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد شخصی آزادیوں پر پابندیاں اور خواتین کے لباس سے متعلق سخت قوانین کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اتوار کے روز ٹویٹ میں کہا کہ ایران ہمارے ناحق حراست میں لیے گئے شہریوں کی حفاظت کا مکمل ذمہ دار ہے۔ ان قیدیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے۔

یورپ اور امریکہ ایرانی عوام کے مطالبات کی حمایت کریں، ایرانی حکومت مخالف تنظیم

لندن، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایرانی مزاحمتی تنظیم این سی آر آئی کی ایک نمائندہ نے عالمی برادری، خاص طور پر یورپ اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران میں جاری غیرمعمولی احتجاجی کی حمایت کریں اور تہران پر سخت پابندیاں عائد کریں۔نیوز کے پروگرام فرینکلی سپیکنگ میں کیتی جینسن سے بات کرتے ہوئے برطانیہ میں این سی آر آئی کی نمائندہ دولت نوروزی نے کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے کیا غلطیاں ہوئیں، سٹریٹیجک غلطیاں، اب وقت آگیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ان کو صحیح کرے اور اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے۔ان کا کہنا تھا کہ اسے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ایرانی عوام کی جانب سے تبدیلی کے مطالبات کی حمایت کرنی چاہیے۔

نیشنل کونسل آف ریزسٹنس آف ایران 1981 میں قائم ہوئی تھی۔ یہ ان تنظیموں پر مشتمل ہے جو ایران کی موجودہ حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔اس کے زیادہ تر ارکان سیاسی انتقام کی وجہ سے جلاوطنی پر مجبور ہیں جو یورپ اور دیگر ممالک سے کام کر رہے ہیں۔ایرانی عوام کی حمایت کے لیے دولت نوروزی کی اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 16 ستمبر کو پولیس حراست میں 22 برس کی ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاج سے حکومت پریشانی کا شکار ہے۔

دولت نوروزی کے مطابق ایرانی سکیورٹی فورسز نے 400 سے زیادہ احتجاجی مظاہرین کو ہلاک جبکہ بچوں سمیت 20 ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر جیلوں اور حراستی مراکز میں تشدد ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے ان کو معلوم ہوا کہ گرفتار افراد میں سے دو ہزار نوجوانوں اور یونیورسٹی کے طلبہ کو بدنام زمانہ حراستی مرکز بی گیٹ نمبر 6 میں منتقل کیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ جو ابھی ہو رہا ہے یہ رکنے والا نہیں۔ ایرانی اپنے ملک میں جلد جمہوری انقلاب پانے کی راہ پر گامزن ہیں۔

تہران کی ایون جیل میں آتشزدگی سے آٹھ ہلاک، متعدد زخمی

تہران، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران کی عدلیہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ تہران ایون جیل میں آگ بھڑک اٹھنے سے آٹھ قیدی ہلاک اور 61 زخمی ہو گئے۔ اس جیل میں زیادہ تر سیاسی قیدیوں اور حکومت مخالفین کو رکھا جاتا ہے۔عدلیہ کی نیوز ایجنسی نظام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان قیدیوں کی موت کا سبب اتوار کو ہونے والا واقعہ تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مرنے والے قیدی چوری کے الزام میں جیل کاٹ رہے تھے۔سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کو ویڈیو نشر کی جس میں بظاہر یہ دکھایا گیا تھا کہ جیل میں صورت حال پر قابو پا لیا گیاہے۔

عدلیہ نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے قیدیوں کی ہلاکت دھوئیں کی وجہ سے دم گھٹنے سے ہوئی جب کہ زخمیوں میں سے چار کی حالت نازک ہے۔یہ آگ ہفتے کے روز اس وقت بھڑک اٹھی جب کہ ملک بھر میں مہساامینی کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے خلاف مظاہرے اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔ مہسا کو اخلاقی پولیس نے اس الزام میں گرفتار کیا تھا کہ اس نے اپنے سرکے بالوں کو قواعد کے مطابق ڈھانپا ہوا نہیں تھا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ جیل میں لگنے والی آگ کو کئی گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد بجھا دیا گیاہے اور اس دوران کوئی بھی قیدی جیل سے فرار نہیں ہوا۔تہران کے گورنر محسن منصوری نے کہا کہ یہ آگ سلائی کی ایک ورکشاپ میں کچھ قیدیوں کے درمیان لڑائی کے باعث لگی۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے سنیچر کو ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ایک وارڈ میں قیدیوں اور جیل کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

اہلکار نے بتایا کہ قیدیوں نے جیل کی وردیوں سے بھرے گودام کو آگ لگا دی، جس کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ انہوں نے کہا کہ تنازع پر قابو پانے کے لیے دوسرے قیدیوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے ، ہم ایون جیل سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اور اس سلسلے میں سوئس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران غلط طریقے سے حراست میں رکھے گئے ہمارے شہریوں کی حفاظت کا مکمل ذمہ دار ہے، جنہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ایون جیل میں قیدیوں کو سکیورٹی سے متعلق الزامات کا سامنا ہے جن میں دوہری شہریت والے شہری بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button