نیوزی لینڈ: گائے کے’ ڈکار‘ پر ٹیکس کیخلاف ملک گیر مظاہرے
یہ لوگ زرعی جانورں کے ڈکار اور پیشاب پر حکومت کی جانب سے ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لندن؍ ولنگٹن، 20اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستان میں جہاں گائے کی پرستش کی جاتی ہے، اور گائے کا گوبر اور گئومتر (پیشاب) مقدس ترین شی سمجھا جاتاہے ، لیکن وہیں نیوزی لینڈ میں گائے کے ڈکار لینے پر ٹیکس عائد کرنے کی تیاری ہورہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے گائے کے ڈکار پر ٹیکس عائد کیے جانے کے منصوبے کے خلاف کسانوں نے ملک گیر مظاہرے کیے گئے۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن ماحولیات کو بہتر بنانے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے یہ ٹیکس نافذ کرنا چاہتی ہیں۔
ہزاروں کسان ٹریکٹروں، کھیتی باڑی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور دیگر موٹرکاروں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے جس کی وجہ سے ولنگٹن، آکلینڈ اور ملک کے دیگر اہم شہروں میں ٹریفک جام ہوگیا۔ یہ لوگ زرعی جانورں کے ڈکار اور پیشاب پر حکومت کی جانب سے ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس ماہ کے اوائل میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے گایوں اور بھیڑوں کے ڈکار اور پیشاب کے ذریعہ خارج ہونے والے میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ گیسوں پر ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔نیوزی لینڈ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس طرح کا ٹیکس نافذ کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہوگا۔تقریباً 50 لاکھ کی آبادی والے نیوزی لینڈ میں لگ بھگ 60 لاکھ گائیں اور دو کروڑ 60 لاکھ بھیڑیں ہیں ہے۔سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والے ہزاروں کسانوں نے تختیاں اٹھارکھی تھیں، جن میں حکومت کی پالیسی کوبدبودار کہا گیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے ٹیکس نافذ کرنے سے خوراک مہنگی ہوجائیں گی اور مویشیوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔
ولنگٹن میں مظاہرے میں شامل کرس نامی ایک شخص کا کہنا تھاکہ زراعت کرنا یوں بھی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے، یہ حکومت ہماری مدد نہیں کر رہی ہے، یہ واقعی ایک بہت مشکل وقت ہے۔جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے یہ ٹیکس ضروری ہے،جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے یہ ٹیکس ضروری ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے لیے میتھین گیس تقریباً 30 فیصد ذمہ دار ہے۔جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے یہ ٹیکس ضروری ہے اور یہ کسانوں کے لیے بھی سود مند ہوگا کیونکہ وہ ماحول دوست گوشت کو زیادہ مہنگے داموں میں فروخت کرسکتے ہیں۔مظاہرین کے منتظمین میں سے ایک برائن میک کینزی کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکس ایک طرح سے سزا ہے اور یہ دیہی کمیونٹی کے وجود کے لیے خطرہ کے مترادف ہے۔میک کینزی کا کہنا تھا کہ حکومت کہتی ہے کہ اس ٹیکس سے مویشیوں سے گیسوں کے اخراج میں 20 فیصد تک کمی آجائے گی لیکن اس کی جگہ کم اہل غیر ملکی کسان لے لیں گے۔شہری علاقوں کے رہائشی بھی کسانوں کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں۔ جنوبی شہر ڈیونیڈن میں لگائے گئے ایک بینر پر لکھا تھازرعی ٹیکس سے ہم سب متاثر ہوں گے۔



