بین الاقوامی خبریں

سعودی خواتین کو 700 سو نئے وکلاء لائسنس جاری

ریاض،یکم نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی وزیر انصاف ڈاکٹر ولید اصمعانی نے سعودی خواتین وکلا کے لیے 700 نئے وکلا ء لائسنس جاری کرنے کی منظوری دے دی جس سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والی خواتین وکلاء کی کل تعداد 2,100 ہو گئی۔

وزارت نے وضاحت کی کہ اس نے ’’ ناجز‘‘ پورٹل کے ذریعے وکلا اور تربیت حاصل کرنے والوں کے لیے الیکٹرانک خدمات کا ایک مجموعہ پیش کیا ہے۔ جس میں وکیل کے لائسنس کے لیے درخواست، وکیل کے لائسنس کی تجدید کی درخواست، اورایک نئے ٹرینی کی رجسٹریشن شامل ہیں۔اسی طرح اس پورٹل پر وکیل سروس موجود ہے جو ٹرینی وکیل کو رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے کے قابل بناتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پورٹل ایک ٹرینی وکیل کی دوسرے میں منتقلی” کی سروس بھی فراہم کرتا ہے، یہ سروس ٹرینی وکیل کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ایک وکیل سے دوسرے وکیل کو منتقلی کی درخواست جمع کرائے اور جدید اور الیکٹرانک شناخت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرے۔

روسی فضائیہ سے گریجویشن کرنے والے پہلے سعودی پائلٹ فیصل العطوی

ریاض،یکم نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کے پہلے شہری نے روسی فضائیہ سے اعزاز کے ساتھ گریجویشن مکمل کرلی۔ پروفیسر این ای زوکووسکی اور یوری گاگارین نامی ایئر فورس اکیڈمی سے گریجویشن کرنے والے پائلٹ فیصل العطوی کو سعودی شہریوں نے فخر سے بھرے الفاظ کے ساتھ مبارکبادیں پیش کیں۔ہائر ملٹری ایوی ایشن سکول کے ایک ویڈیو کلپ میں 400 سے زائد پائلٹس کی گریجویشن تقریب کو دکھایا گیا ہے۔

ان میں سے 11 گریجویٹس نے اعزاز کے ساتھ ڈپلومہ اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 55 گریجویٹس نے اعزاز کے ساتھ ڈپلومہ حاصل کیا۔ فیصل العطوی کے والد نے اپنے بیٹے کی گریجویشن پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا اور دنیا کی بہتری یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ آج ہمیں فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہم محنت، لگن اور محنت کا پھل حاصل کر رہے ہیں۔ ہم تبوک کے امیر کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو اہل علاقہ سے مسلسل تعاون کرتے رہتے ہیں۔

سعودی عرب: سمندری پانی سے صحرا میں دھان کی کاشت کا پہلا کامیاب تجربہ

ریاض،یکم نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب میں ایک ایگری کلچرانجینئرنے صحرائی زمین اور سمندر کے کھارے پانی سے بہترین اقسام کے چاول کی کاشت کا منفرد اور کامیاب تجربہ کیا ہے۔ سعودی شہری انجینئر یوسف البندقی کا یہ نہ صرف مملکت بلکہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔مشکل موسمی حالات میں اور جدید مواد کے ساتھ ایک سعودی شہری نے مکہ معظمہ کے صحرا میں چاول کی کاشت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ چاول کی فصلوں کی صحرائی علاقوں میں خشک کاشت کا یہ تجربہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔

چاول کی کاشت ، جدید زراعت اور اس کی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے ایک محقق انجینئر یوسف عبدالرحمن بندقجی نے بتایا کہ زراعت کا خیال دو سال قبل جدہ شہر میں اس وقت ان کے ذہن میں آیا جب وہ وزارت زراعت و آب پاشی کی نگرانی میں قائم کردہ ایک ایک فارم کے پاس تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس فارم میں آبپاشی کا عمل سمندر کے پانی سے ہوتا ہے جو زیادہ نمکین سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران میں نے کاشت شدہ پودوں اور آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے ساتھ ساتھ آب و ہوا اور گرم موسموں کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاول کی فصلوں کی خشک کاشت کے بارے میں میرا تجربہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کاشت جدید ماحول دوست نامیاتی مواد اور آبپاشی کے نظام کے ساتھ مہینے میں پانچ بار کی گئی۔

یہ تجربہ پانچ سال کیا گیا اور ہر سال فصل کی کٹائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ چاول کی کاشت کا خیال اس وقت آیا جب اس کی تجویز ریسرچ سینٹر کے کنسلٹنٹس نے کی، کیونکہ اس آئیڈیا کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جدید مواد اور مہارت پر انحصار کرنا تھا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں چاول کے فارم میں اس کی کاشت اور آبپاشی کی پیروی کرنے اور کھیت اور لیبارٹری کے تجربات کے نتائج کا مشاہدہ کرنے کے لیے 12 گھنٹے کام کرتا رہا۔ اس کے فارم کا رقبہ 2 ہیکٹر ہے اور کچھ چھوٹے رقبے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاول شکل میں گندم سے ملتا جلتا ہے، لیکن خصوصیات اور نظام میں مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سال بھر اور تمام موسموں میں چاول اگاسکتے ہیں۔ میرے پاس فارم پر چاول کی تین اقسام ہیں، جو انڈونیشیائی سیاہ چاول کے علاوہ سعودی الرویا سفید چاول، الحساوی سرخ چاول شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button