بین الاقوامی خبریں

لانگ مارچ ملتوی، ٹھیک ہونے پر دوبارہ نکلنے کی کال دوں گا: عمران خان

مارشل لا کا زمانہ گزر گیا، ایک فوجی پر تنقید کا مطلب پوری فوج پر تنقید نہیں: عمران خان

لاہور، 5نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان لوگوں نے وزیر آباد یا گجرات میں مجھے سلمان تاثیر کی طرح قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا،مگر اللہ نے محفوظ رکھا۔سابق وزیر اعظم نے شوکت خانم ہسپتال میں ریکارڈ کرائے جانے والے پیغام میں بتایا کہ صحت یاب ہوتے ہی دوبارہ لانگ مارچ کی کال دوں گا، البتہ تین لوگوں کا استعفیٰ آنے تک ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے 4 گولیاں لگی ہیں، جو حملہ کیا گیا اس کی تفصیلات بعد میں بتاؤں گا، اسٹیبلشمنٹ کو ملک میں سازش کے تحت تبدیلی لانے کی عادت ہو گئی ہے، لیکن اس مرتبہ قوم نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔پی ٹی آئی چیرمین نے کہا کہ جب تک یہ تین لوگ اپنے عہدوں سے مستعفی نہیں ہوتے تب تک کارکن ملک گیر احتجاج جاری رکھیں اور پھر میں سڑک پر آتے ہی دوبارہ اسلام آباد کی کال دوں گا۔

مارشل لا کا زمانہ گزر گیا، ایک فوجی پر تنقید کا مطلب پوری فوج پر تنقید نہیں: عمران خان

لاہور ، 5نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر مارشل لا لگانے کا زمانہ گزر گیا ہے، قوم کی سوچ اس سے بہت آگے جا چکی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایک فوجی افسر پر تنقید کا مطلب پوری فوج کو موردالزام ٹھہرانا نہیں۔ کالی بھیڑیں ہر شعبے میں ہو سکتی ہیں، سیاست کا شعبہ ہو، عدالت کا یا فوج کا، ہر جگہ اچھے برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔پاکستان کو ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔خود پر قاتلانہ حملے میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے ساتھ ساتھ ایک فوجی عہدیدار کا نام لینے پر فوج کے ادارے نے اپنے ردعمل میں عمران خان کے بیان کو بے بنیاد الزام قرار دیا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ قومی ادارے اور اس سے وابستہ افسران کو بدنام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

فوج کے ترجمان کے دفتر سے جاری جواب کے جواب میں عمران خان نے شوکت خانم سپتال کے اندر چند صحافیوں سے گفتگو کی۔عمران خان سے جب سوال کیا کہ فوج میں کوئی بھی شخص اپنے افسر کے حکم کے بغیر کوئی اقدام نہیں کرتا تو کیا آپ خود پر حملے میں ڈی جی آئی ایس آئی کو مورڈ الزام ٹھہرا رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ انہوں نے صرف فیصل نصیر کا نام لیا ہے۔نہیں ، میں صرف (میجر جنرل) فیصل نصیر کی بات کر رہا تھا۔عمران خان نے کہا کہ کالی بھیڑیں ہر شعبے میں ہوتی ہیں، ان کو ہٹانے سے اداروں کی ساکھ بہتر ہوتی ہے۔

ایک بڑی غلط فہمی ہے کہ آگر آپ کسی بھی فوجی پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ فوج کے خلاف ہوگئے۔ ایسا نہیں ہے۔ اچھے برے لوگ ہر ادارے میں ہوتے ہیں، اچھے برے جج ہوتے ہیں، اچھے برے سیاست دان ہوتے ہیں، فوج کے اندر بھی ایسے لوگ ہیں جن کا کورٹ مار شل ہوا ہے، جو غداری کر رہے تھے۔ اس طرح کی کالی بھیڑ جس نے ظلم کیا ہے اگر آپ ان کو ہٹا ئیں گے تو فوج کاا وقار اوپر جائے گا۔ ہمارے بیس لوگوں نے پیسے لے کر الیکشنز میں اپنے آپ کو بیچا، ہم نے بیس کو نکالا، پارٹی کی کریڈیبیلٹی اوپر چلی گئی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مارشل لا لگانے کے دن گزر گئے۔ پاکستان کے اندر سوچ کا عمل بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ مارشل لا نہیں لگ سکتا۔انہوں نے ایک بار پھر دوہرایا کہ پاکستان کو ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر آپ تنقید کا عنصر نکال دیں اور کہیں کہ وہ قانون سے اوپر ہیں تو یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button