بین الاقوامی خبریں

یوکرین پر حملے کے بعد پہلی بار روس و امریکہ میں جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات

لندن، 8نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین پر حملے کے بعد پہلی بار روس اور امریکہ نے سٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں کے بارے میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے روسی اخبار کومرسینٹ کی رپورٹ اور مذاکرات سے واقف چار ذرائع کا حوالہ دیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کا سلسلہ اس وقت منقطع ہو گیا تھا جب ماسکو نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا تاہم جوہری ہتھیاروں میں کمی کے حوالے سے معاہدہ نافذالعمل ہے۔

رپورٹ میں جس دستاویز کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر مذاکرات مشرق وسطٰی کے کسی ملک میں ہو سکتے ہیں۔ماضی میں یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہوتے رہے ہیں تاہم اس بار یہ مقام تبدیل کر دیا گیا ہے کیونکہ یوکرین پر حملے کے بعد سوئٹزرلینڈ نے بھی روس پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد ماسکو اس کو ایک غیرجانبدار فریق کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔خیال رہے روس نے 24 فروری کو پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے مسلسل جنگ جاری ہے اور کبھی ایک کبھی دوسرے فریق کا پلڑا بھاری ہونے کے حوالے سے رپورٹس سامنے آ تی رہتی ہیں۔

اس جنگ میں امریکہ اور مغربی ممالک یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھلے عام اس کی مدد بھی کر رہے ہیں جبکہ روس پر معاشی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ روس نے کچھ عرصہ قبل ان علاقوں کو ریفرنڈم کے بعد اپنے ساتھ ملانے کا اعلان بھی کیا تھا جن پر حملے کے بعد اس نے قبضہ کیا تھا۔ دوسری جانب امریکہ اور مغربی ممالک نے ریفرنڈم کو مسترد کرتے ہوئے قابل مذمت اقدام قرار دیا تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کچھ عرصہ پیشتر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے جائیں گے جبکہ روسی صدر پوتن کئی بار کہہ چکے ہیں کہ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ جاری رہے گی۔اس جنگ کی وجہ سے دنیا میں غذائی بحران نے بھی سر اٹھایا ہے کیونکہ روس اور یوکرین دونوں ہی بڑے پیمانے پر گندم اور خوردنی تیل پیدا کرتے ہیں۔جنگ کی وجہ سے ایک تو پیداوار متاثر ہوئی ہے جبکہ دوسرے ممالک کو ترسیل بھی رک گئی ہے۔

روسی صدر کی قریبی شخصیت کا امریکی انتخابات میں ’مداخلت‘ کا اعتراف

ماسکو ، 8نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے قریبی تعلق رکھنے والے، واشنگٹن اور یورپی ممالک کی جانب سے پابندیوں کے شکار روس کی بااثر کاروباری شخصیت یوگینی پریگوزن نے امریکی انتخابات میں مداخلت کا اعتراف کرلیا۔رپورٹ کے مطابق یوگینی پریگوزن کی ٹیم نے ان کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ حضرات، ہم نے مداخلت کی، ہم مداخلت کر رہے ہیں اور ہم مداخلت کریں گے۔ پابندیوں کے شکار یوگینی پریگوزن پر کئی مغربی ممالک کے الیکشن میں ووٹنگ کے نتائج کو متاثر کرنے کے لیے ٹرول فیکٹری چلانے کا الزام ہے۔

یوگینی پریگوزن نے اپنے بیان میں کہا کہ احتیاط کے ساتھ ، ٹھیک ضرورت کے مطابق، صرف ہدف کو نشانہ بناکر اور جس بھی طریقے سے ہم اسے کرسکتے ہیں، ہم اسے کر تے ہیں۔انہوں نے مبہم اور غیر واضح انداز میں مزید کہا کہ اپنے آپریشن کے دوران ہم ایک ساتھ ہی گردے اور جگر دونوں کو نکال دیتے ہیں۔61 سالہ یوگینی پریگوزن نے بلومبرگ کی ایک رپورٹ پر رد عمل دینے کی درخواست کا جواب دیا جس میں کہا گیا تھا کہ روس امریکی وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔یہ بیان مڈٹرم الیکشن کے لیے جاری انتخابی مہم کے آخری روز شائع کیا گیا جب کہ یہ مڈ ٹرم الیکشن امریکی صدر جو بائیڈن کی بقیہ مدت کے تعین کریں گے اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

ستمبر میں، یوگینی پریگوزن نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے ویگنر مرسینری گروپ کی بنیاد رکھی تھی جس کے ارکان یوکرین میں ماسکو کے حملے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔  ہائی پروفائل شخصیت کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کو بہت سے تجزیہ کاروں نے اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ یوگینی پریگوزن روس میں ممکنہ سیاسی کردار پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔برسوں سے ویگنر گروپ پر ماسکو کے لیے بیرون ملک منصوبوں کو پورا کرنے میں کردار ادا کرنے کا شکوک و شبہات تھے جب کہ کریملن اس گروپ کے ساتھ کسی بھی رابطے سے انکار کرتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button