بین الاقوامی خبریں

امریکہ: کانگریس میں برتری کے لیے کانٹے دار وسط مدتی مقابلے

واشنگٹن،9 نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بدھ کی صبح تک سامنے آنے والی صورتِ حال کے مطابق ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے لیے کئی کلیدی ریاستوں میں کانٹے دار مقابلے ہوئے۔ ملک بھر میں انتخابی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بعض حلقوں میں حتمی نتائج آنے میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔ایوانِ نمائندگان کے انتخاب میں ری پبلکننز کی جس ’ریڈ ویو‘ کی توقع کی جارہی ہے تھی اس کا زور کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ری پبلکنز ممکنہ طور پر ایوانِ نمائندگن میں ممکنہ طور پر برتی حاصل کرسکتے ہیں تو نشستوں کی تعداد توقع سے کم ہونے کا امکان ہے۔

کانگریس کے ہر دو سال کے بعد ہونے والے انتخابات میں صدر جو بائیڈن کی بقیہ مدت کے دوران کیپٹل ہل کا سیاسی کنٹرول داؤ پر ہے۔ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں پر انتخابات کے علاوہ کئی ریاستوں کے گورنرز کے انتخاب کے لیے منگل کو ووٹنگ ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق ملک کی مشرقی ریاستوں میں پولنگ کا عمل شام تک مکمل ہوا لیکن مغربی ٹائم زونز میں ووٹنگ جاری رہی جہاں وقت میں چند گھنٹوں کا فرق ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کئی ریاستوں میں برسر اقتدار ڈیموکریٹک امیدواروں اور حزب اختلاف کے ری پبلیکن امیدواروں کے درمیان کانگریس کی نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ ہوا۔

ابھی کئی مقابلوں کے نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہورہی ہے۔ان انتخابات میں ووٹرز نے جن مسائل پر توجہ مرکوز کی ان میں اسقاط حمل، کھیلوں میں سٹے بازی اور چرس کی قانونی حیثیت شامل ہیں۔

دارالحکومت واشنگٹن سے ملحقہ ریاست میری لینڈ کے ووٹروں نے بھنگ کو قانونی بنانے کا فیصلہ کیا لیکن کئی دوسری ریاستوں میں ایسی ہی تجاویز شکست کی طرف بڑھ رہی ہیں۔دو ریاستوں میں تاریخ ساز نتائج سامنے آرہے ہیں۔ میری لینڈ کے ووٹروں نے اپنے پہلے سیاہ فام گورنر، ویس مور، کا انتخاب کیا۔ مور کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ریاست میساچوسٹس کی پہلی خاتون گورنر ہوں گی اور ملک کی پہلی کھلے عام ہم جنس پرست ریاست کی چیف ایگزیکٹو مورا ہیلی ہیں۔ وہ بھی ڈیموکریٹ ہیں۔\

ریاست آرکنساس میں ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکرٹری سارہ ہکابی سینڈرز، جو ریپبلکن ہیںتوقع کے مطابق گورنر منتخب ہوئیں۔ اس کے والد مائیک ہکابی نے ایک دہائی تک ریاست کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔منگل کے سرکاری انتخابات کے دن سے قبل ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ امریکی شہری پہلے ہی ذاتی طور پر یا میل ان ووٹنگ کے ذریعے ووٹ ڈال چکے تھے۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے مقابلوں میں کل ووٹ 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں ریکارڈ 115 ملین سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔منگل کو ایک اہم مقابلے میں فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹیس نے آسانی سے دوبارہ انتخاب جیت لیا ہے۔

کچھ ری پبلکنز 2024 کے صدارتی الیکشن میں امیدوار کی نامزدگی کے لیے ڈی سینٹس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کریں اور انہوں نے بھی وائٹ ہاؤس کے لیے ممکنہ انتخابی دوڑ کو مسترد نہیں کیا۔ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ریلیوں میں حامیوں کو اشارہ دیا ہے کہ وہ جلد ہی، شاید اگلے ہفتے، یہ اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ 2024 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس کے لیے انتخاب لڑ یں گے۔

وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کی جانب سے مقدمات کی بھرمار

واشنگٹن،9 نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وسط مدتی انتخابات کے دوران، ریپبلکن اور ڈیموکریٹس نے کانٹے کے مقابلے والی ان ریاستوں میں درجنوں مقدمے دائر کیے ہیں جو امریکی کانگریس کے کنٹرول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔یہ مقدمے انتخابات کے مختلف ضوابط کو چیلنج کرتے ہیں، جس میں زیادہ تر توجہ ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے اوران کی گنتی پر مرکوز ہے۔ اس طریقہ کار کی مقبولیت میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی ووٹنگ کے حقوق کی تنظیم،’ ڈیموکریسی ڈاکٹ ‘ کے مطابق، پیر کے روز تک، الیکشن اور ووٹنگ سے متعلق، کل 128مقدمے دائر کیے جا چکے تھے۔

ڈیموکریسی ڈاکٹ کا کہنا ہے کہ ان میں سے، 71 ووٹنگ تک رسائی کو محدود کرنے سے متعلق ہیں، جبکہ باقی کا مقصد ووٹنگ کو وسعت یا تحفظ دینا ہے۔ ڈیموکریسی ڈاکٹ کے ستمبر کے ایک تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ اس سال دائر کیے گئے مقدمات میں سے نصف سے کچھ زیادہ ریپبلکنزکی جانب سے تھے۔ ایک غیر جانبدار نگران اور ایڈووکیسی کی تنظیم ’کامن کاز‘کی ڈائریکٹر سلویا البرٹ نے کہا ہے کہ غیر معمولی تعداد میں قانونی چارہ جوئی، اس وسط مدتی الیکشن کو حالیہ تاریخ میں، 2020 کے صدارتی مقابلے کے بعد سب سے زیادہ قانونی چارہ جوئی والے الیکشن بنا دے گی۔

البرٹ نے کہا کہ ویسے تو یہ معمول کی بات ہے کہ سبقت کے حصول کے لییدونوں طرف سے معمولی تعداد میں مقدمے دائر کیے جائیں۔لیکن اس بار جو چیزمختلف ہے وہ مقدمے بازی کی تعداد، ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے اور انتخابات پر لوگوں کے یقین کو مجروح کرنے کی واضح کوشش ہے۔ 2020میں، ڈیموکریسی ڈاکٹ نے بتایا تھا کہ الیکشن کے دن سے پہلے 68 مقدمات دائرکیے گئے تھے۔قدامت پسند ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں انتخابی قانون میں اصلاحات کی کوششوں کے مینیجر ہنس وان سپاکووسکی نے کہا کہ ریپبلکنز کے دائر کردہ مقدمے محض قانون پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button