بین الاقوامی خبریں

ایلون مسک کے الٹی میٹم کے بعد سینکڑوں ٹوئٹر ملازمین مستعفی

واشنگٹن،18 نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ٹوئٹر کے سینکڑوں ملازمین نے اپنے نئے باس ایلون مسک کے الٹی میٹم کے بعد بحران کا شکار سوشل میڈیا کمپنی چھوڑ دی ہے۔ سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق استعفوں کے بعد ٹوئٹر کے کئی دفاتر پیر تک بند کر دئے گئے۔ جبکہ رائٹرز کے مطابق ورک پلیس ایپ بلائنڈ پر کیے گئے ایک سروے میں 180 میں سے 42 فیصد افراد نے کمپنی کو خیرباد کہنے کا راستہ اختیار کیا۔ سروے کے 25 فیصد شرکاء￿ نے ہچکچاتے ہوئے ہاں پر کلک کیا۔ جبکہ صرف 7 فیصد افراد نے ہاں پر کلک کیا اور کہا کہ میں سخت گیر (ہارڈکور) ہوں۔ خیال رہے کہ ورک پلیس ایپ بلائنڈ دنیا بھر کے ملازمین کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ ان کے کام کے ای میل پتوں کے ذریعے تصدیق کرتی ہے اور انہیں گمنام طور پر معلومات کا اشتراک کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

ایک موجودہ ملازم اور حال ہی میں کمپنی چھوڑنے والے ملازم نے بتایا کہ مسک کچھ اعلیٰ ملازمین سے ملاقات کر رہے تھے اور انہیں ملازمت برقرار رکھنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ملازمین نے رہنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن تعداد کمپنی چھوڑنے والے لوگوں کی صرف عدم دلچسپی کو نمایاں کرتی ہے۔ مسک نے ٹوئٹر کی اعلیٰ انتظامیہ سمیت اپنے آدھے ملازمین کو برطرف کرنے میں جلد بازی کے ساتھ ساتھ کمپنی کے کام کرنے کا انداز بھی بدل دیا ہے۔

دو ذرائع کے مطابق، کمپنی نے ملازمین کو مطلع کیا کہ وہ پیر تک اپنے دفاتر بند کر دے گی اور بیجز تک رسائی منقطع کر دے گی۔ ایک ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی حکام نے جمعرات کی شام ملازمین کو دفتر سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ٹوئٹر نے اپنی کمیونی کیشن ٹیم کے کئی ارکان کو کھو دیا ہے۔ ان لوگوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

سابق ملازم کے مطابق سگنل پر ٹوئٹر کے تقریباً 50 ملازمین کے ساتھ نجی گفتگو میں تقریباً 40 نے کہا کہ انہوں نے ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سلیک گروپ کے بارے میں علم رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ تقریباً 360 لوگوں نے رضاکارانہ برطرفی کے نام سے ایک نئے چینل میں شمولیت اختیار کی ہے۔ بلائنڈ پر ایک الگ سروے نے ملازمین سے یہ اندازہ لگانے کو کہا کہ کتنے فیصد ملازمین ٹویٹر چھوڑ دیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button