بین الاقوامی خبریں

بلنکن نے نیتن یاہو کی اگلی حکومت کو نئی بستیوں کے قیام پر خبردار کر دیا

روس پر عائد مغربی پابندیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں: بلنکن

نیویارک،5دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن us secretary of state antony blinken نے  وعدہ کر لیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں یا زمینوں کو ضم کرنے کی مخالفت جاری رکھی جائے گی، تاہم بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اگلی حکومت سے متعلق فیصلہ اس حکومت کے اقدامات کو دیکھ کر کریں گے نا کہ اس بنا کر کہ اس میں دائیں بازو کے انتہا پسند شامل ہیں۔

بلنکن نے بائیں بازو کے اسرائیل حامی امریکی لابنگ گروپ ’’جے اسٹریٹ‘‘ کو بتایا کہ وہ واضح طور پر کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتے رہیں گے جو دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتا ہو۔ اسی طر ح یہودی بستیاں آباد کر کے اسرائیلی ریاست کی توسیع کی طرف بڑھنے، مغربی کنارے میں موجود یہودی بستیوں کا الحاق کرنے، مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت میں تبدیلی، فلسطینیوں کی املاک کی مسماری یا فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے اقدامات کی مخالفت جاری رہے گی۔

واضح رہے نومبر میں لیکود پارٹی کے رہنما نیتن یاہو کو اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کی جانب سے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے باضابطہ دعوت دے دی گئی تھی۔نیتن یاہو نے 2021 میں ایک وسیع لیکن کمزور اتحاد کے ذریعے بے دخل کیے جانے سے پہلے مسلسل 12 سال تک اسرائیل پر حکومت کی تھی۔ گزشتہ ہفتے انتخابات کے بعد ان کی واپسی چار سالوں میں ملک کے پانچویں وزیر اعظم کے طور پر ہوئی۔ 2019 کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل میں واضح اکثریت کے ساتھ ایک ہم آہنگ حکومت کا قیام یقینی دکھائی دیا ہے۔واضح رہے کہ لگ بھگ 4 لاکھ 75 ہزار اسرائیلی یہودی مغربی کنارے میں بستیوں میں آباد ہیں۔ ان کی یہ رہائش بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔ فلسطینیوں کے نزدیک یہودی آبادیوں کی یہ زمینیں ان کی مستقبل کی ریاست کا حصہ ہیں۔ تل ابیب نے 1967 سے متواتر حکومتوں کے ذریعے یہودی بستیوں کو بسانے کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔

روس پر عائد مغربی پابندیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں: بلنکن

واشنگٹن ،5دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ روس پر یوکرین کے حملے کے بعد عائد کی گئی مغربی پابندیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں جن کے نتیجے میں ماسکو کے لیے جنگ کو آگے بڑھانا مشکل ہو رہا ہے۔اینٹنی بلنکن نے نشریاتی ادارے سی این این کے اسٹیٹ آف دی یونین شو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تجارتی کنٹرول کے باعث روس ان پرزوں کو درآمد نہیں کر سکتا جو اسے مزید ہتھیاروں کے بنانے میں درکار ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس کو ہر روز جنگ کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے اور اس پر روز بروز بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مغربی اتحادی روس کی معیشت اور اس کی جنگی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے لیے ‘مسلسل طریقے تلاش کر رہے ہیں۔’بلنکن نے ماسکو پر الزام لگایا ہے کہ وہ فضائی حملوں کے ذریعے موسم سرما کو بطور ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان فضائی حملوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران یوکرینی عوام کے حوصلے پست کرنے کے لیے بجلی اور پانی کی سپلائی لائنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب بر طانوی وزارتِ دفاع کے ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے لیے روسی عوامی حمایت میں کمی آ رہی ہے۔ایک انٹیلی جنس اپ ڈیٹ میں برطانوی وزارت نے اتوار کی صبح ایک آزاد روسی میڈیا آؤٹ لیٹ کے دعوے کے حوالے سے کہا تھا کہ روس کی فیڈرل پروٹیکٹو سروس کے جمع کردہ ڈیٹا تک رسائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ 55 فی صد روسی یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کے حامی ہیں جب کہ صرف 25 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہیں۔اس سے قبل اپریل میں تقریباً 80 فی صد روسیوں نے یوکرین پر حملے کی حمایت کی تھی۔ادھر روسی توانائی کے سربراہ نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے اتوار کو کہا کہ ماسکو مغربی قیمتوں کی حد سے مشروط تیل فروخت نہیں کرے گا چاہے اسے پیداوار میں کمی کرنا پڑے۔نوواک نے گروپ آف سیون کے صنعتی ممالک اور آسٹریلیا کی جانب سے جمعے کو عائد کردہ 60 ڈالر فی بیرل قیمت کی حد کو عالمی توانائی کی تجارت میں بڑی مداخلت قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی مداخلت مارکیٹ کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے اور یہ عمل سپلائی کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button