فلسطینی مسجد اقصیٰ کو خالی نہ چھوڑیں، الشیخ کمال خطیب کی اپیل
مغربی کنارے میں 24 گھنٹوں میں فلسطینیوں کی 26 مزاحمتی کارروائیاں
مقبوضہ بیت المقدس ،6دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسلامی تحریک کے نائب صدر الشیخ کمال الخطیب نے 1948 میں مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں اور مغربی کنارے اور القدس کے لوگوں سے مسجد اقصیٰ کا سفر کرنے کی اپیل کی ہے۔الخطیب نے پیر کے روز ایک پریس بیان میں کہا کہ مسجد اقصیٰ کے ارد گرد رچی جا رہی خطرناک سازشیں اور تعلقات معمول پر لانے کے منصوبے، ہر جگہ فلسطینیوں سیتقاضا کرتے ہیں کہ وہ قابض دشمن کو یہ پیغام دیں کہ الاقصیٰ اور اس کی مغربی دیوار صرف مسلمانوں کے لیے ہوگی۔
الخطیب نے زور دے کر کہا کہ مسجد اقصیٰ کی دیواروں پر قابض رپاست اور اس کے آباد کاروں کے وہم و گمان کو پاش پاش کر دیا جائے گا اور اس کی چٹان کی مضبوطی پر ان کے تمام منصوبے ختم ہو جائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ اول اور ان کے نبی کی زیارت گاہ ہے۔ م مسجد حرام کی طرف متوجہ ہونے والا ہرمسلمان مسجد اقصیٰ کواپنا قبلہ اول مانتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ قوم ایک مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ اس کے دشمن اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی آزادی کی صبح زیادہ دور نہیں۔
مغربی کنارے میں 24 گھنٹوں میں فلسطینیوں کی 26 مزاحمتی کارروائیاں
غرب اردن ،6دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں مزاحمتی کارروائیاں جاری رہیں۔ اس دوران 26 مزاحمتی کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں گولی مارنے، دھماکہ خیز آلات سے دھماکہ اور مولوٹوف کاک ٹیل پھینکنا شامل ہیں۔فلسطینی انفارمیشن سینٹر معطی نے قابض فوجیوں اور آباد کاروں کو نشانہ بنانے والے 5 شوٹنگ حملوں اور 3 دھماکہ خیز آلات کے دھماکے کی نشاندہی کی۔قابض ریاست کے ساتھ تصادم کے دوران مولوٹوف کاک ٹیل اور پٹاخے پھینکے گئے۔ تصادم 13 مقامات پر فلسطینیوں کی طرف سے قابض فوج اور آباد کاروں پر سنگ باری کی گئی۔
فلسطینیوں نے مغربی کنارے کے الگ الگ علاقوں میں آباد کاروں کے تین حملوں کا جواب دیا اور آباد کاروں کی ایک گاڑی تباہ ہو گئی۔بھرپور کارروائیوں میں مزاحمتی کارکنوں نے دھماکہ خیز مواد پھینکنے کے علاوہ جنین اور اس کے کیمپ پر اسرائیلی فوج کے دھاوے کے دوران قابض فورسز پر فائرنگ کی۔الطور، کوہ گریزیم اور نابلس کے قصبے صورہ میں قابض فوجی پوائنٹ کی طرف فلسطینیوں کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔مزاحمتی کارکنوں نے طولکرم میں ہرمش یہودی بستی کی طرف فائرنگ کی اور بیت لحم میں جھڑپوں کے دوران دھماکہ خیز ڈیوائس سے نشانہ بننے کے بعد ایک فوجی زخمی ہوا۔



