2023 کیلئے چونکا دینے والی پیشین گوئیاں میکرون کا استعفیٰ ، معاشی جنگ، گوشت پر پابندی
سال 2023 کیلئے ساکسو بینک کی اہم ترین توقعات میں سونے کی قیمتوں کا 3 ہزار ڈالر تک بلند ہونا، ایک ملک میں گوشت کی پیداوار پر پابندی اور فرانسیسی صدر میکرون کا استعفی شامل ہے
لندن، 8دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہمیشہ کی طرح ہر سال کے اختتام پر ساکسو بینک ( SaxoBank) اس مرتبہ بھی اگلے سال کی چونکا دینے والی پیش گوئیاں کردی ہیں۔ اس کی پیش گوئیاں کبھی کبھی سچ بھی ہو جاتی ہیں۔ یہ ساکسو بینک کی باضابطہ پیش گوئیاں نہیں ہیں بلکہ آزادانہ واقعات ہوتے ہیں جو دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔سال 2023 کیلئے ساکسو بینک کی اہم ترین توقعات میں سونے کی قیمتوں کا 3 ہزار ڈالر تک بلند ہونا، ایک ملک میں گوشت کی پیداوار پر پابندی اور فرانسیسی صدر میکرون کا استعفی شامل ہے۔ساکسو کی پیش گوئیاں دنیا کے مختلف خطوں کے متعدد مسائل کو احاطے میں لاتی ہیں۔ گزشتہ برس سال 2022 کیلئے ساکسو بینک نے پیش گوئی کی تھی کہ اوسط انسانی زندگی میں 25 سال اضافہ ہوجائے گا اور سرد جنگ شروع ہو جائے گی۔
ساکسو بینک کے توقعات کے مطابق 2023 میں سیاست کی دنیا میں ہم فرانس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا مشاہدہ کریں گے۔ کیونکہ اس کے موجودہ صدر ایمانوئل میکرون غیر متوقع طور پر” مستعفی ہو جائیں گے۔اس سال 2022 میں یورپ نے ایسے گرم واقعات دیکھے جو 1945 کے بعد سے براعظم پر نہیں دیکھے گئے۔ 2022 کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی نمائندگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر 2024 میں امریکی صدارتی الیکشن میں اپنی امیدواری کا اعلان کردیا۔ یہ اشارے یورپی یونین کے لیے ایسے بنیادی اقدامات کرنے کی ضرورت کو بتاتے ہیں جو یونین کی دفاعی پوزیشن کی حمایت کریں اور اس کے امریکی اثر سے نکلنے کو یقینی بنائیں۔ یہ بھی توقع ہے کہ برطانیہ یورپی یونین میں واپسی پر ریفرنڈم کرائے گا۔بینک توقع کرتا ہے کہ عالمی معیشت جنگی معیشت میں منتقل ہو جائے گی۔
ساکسو بینک کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر سٹین جیکبسن نے کہا کہ دنیا کی ہر سپر پاور اب اپنی قومی سلامتی کو تمام محاذوں پر مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان محاذوں میں فوجی، سپلائی چین، توانائی، سکیورٹی اور مالی تحفظ کے محاذ شامل ہیں۔دنیا کے ممالک لین دین میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں جس کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے ڈالر کو حکومتوں اور ملکوں کو دھمکانے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اسی بنا پر کئی ممالک آئی ایم ایف سے گریز کریں گے۔ یا پھر یہ ملک ڈالر کو انٹرنیشنل کلیئرنگ یونین سے معاملہ انجام دینے کیلئے استعمال کریں گے۔ ایک نئے ریزرو اثاثہ کا قیام ہوسکتا ہے جس کی کرنسی بینک ور ہوگی۔
دنیا کے کئی ملک امریکہ کے طریقوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام پر اس کے کنٹرول کی مذمت کرتے ہیں۔اگلے سال بڑھتے ہوئے افراط زر کے دباؤ اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے پس منظر میں دنیا کے مرکزی بینک مزید قدامت پسند پالیسیوں کی طرف لوٹیں گے اور سونے جیسے روایتی اثاثوں میں سرمایہ کاری شروع کر دیں گے۔کموڈٹی کے سربراہ اولے ہینسن کے مطابق توقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتی دھات کی قیمت 1800 ڈالر سے بڑھ کر 3000 ڈالر فی اونس ہوجائے گی۔ بینک کی حکمت عملی میں یہ اس وقت ہوگا جب مارکیٹ کو یقین ہو جائے گا کہ قیمتیں مستقبل قریب میں بڑھتی رہیں گی۔ساکسو بینک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2023 میں کئی عوامل کی وجہ سے افراط زر میں تیزی آئے گی۔ امریکی فیڈرل ریزرو سسٹم کی جانب سے مانیٹری پالیسی کو سخت کرنے سے ڈالر کی قدر کمزور ہوگی جس کا براہ راست اثر قیمت میں اضافے پر پڑے گا۔
اس کے متوازی طور پر چین 2023 کے موسم بہار کی آمد کے ساتھ کوویڈ 19 بیماری کے کیسز کو صفر تک پہنچانے کی پالیسی کو ترک کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ چین میں وسائل کی طلب کی بڑھتی ہوئی سطح اشیا کی قیمتوں میں نئے اضافے کا باعث بنے گی۔ اس طرح افراط زر کی شرح زیادہ ہو جائے گی۔ خاص طور پر ڈالر کی گرتی ہوئی حالت کے جاری رہنے سے سونا ریکارڈ قائم کرے گا۔بینک کے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ کم از کم ایک ملک گوشت کو مکمل طور پر ترک کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ سب سے پہلے 2025 تک گوشت پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے گا اور 2030 میں اس کی پیداوار پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ متبادل پلانٹ پر مبنی مصنوعی گوشت اور کم اخراجات والی لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کی ٹیکنالوجیز پروان چڑھیں گی۔



