بین الاقوامی خبریں

منی لانڈرنگ کے 5 ملزمان کو 20 سال قید: سعودی عرب

روسی تیل پرمغرب کی قیمتوں کی حد کے کوئی واضح نتائج نظرنہیں آرہے:سعودی وزیرتوانائی

ریاض:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوشن کے مطابق ایک سعودی شہری اور 4 عرب شہریوں سمیت 5 افراد پر منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔تحقیقاتی طریقہ کار سے یہ بات سامنے آئی کہ سعودی نے تین تجارتی ادارے کھولے اور ان سے تارکین وطن کو بااختیار بنایا، ان اداروں کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولے، انہیں غیر ملکیوں کے حوالے کیا اور انہیں ماہانہ معمولی اجرت کے عوض انہیں بغیر کسی پابندی کے تصرف کرنے کے قابل بنایا۔تجارتی اداروں کے بنک کھاتوں کی تلاش اور چھان بین سے معلوم ہوا کہ تارکین وطن رقم اکٹھا کرنے، اسے تجارتی اداروں کے کھاتوں میں جمع کرنے اور مملکت سے باہر منتقل کرنے میں ملوث تھے۔

رقم کے ذرائع کی تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ منتقلی جرائم اور متعدد ضوابط کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ مدعا علیہان نے اپنی اصلیت چھپائی اور بھیس بدل کر ایسا ظاہر کیا جیسے ذریعہ جائز ہے۔ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا اور مقدمہ چلایا گیا۔عدالت نے ملزموں کو 20 سال قید اور 5 لاکھ ریال جرمانے کی سزا سنائی۔ منتقل کی گئی رقم کی مالیت میں ہی رقم الگ سے ادا کرنے کا بھی کہا گیا۔ ساتھ ہی غیر ملکیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔

روسی تیل پرمغرب کی قیمتوں کی حد کے کوئی واضح نتائج نظرنہیں آرہے:سعودی وزیرتوانائی

ریاض ، 12دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ روس کے خام تیل پر یورپی پابندیوں کے اثرات اورقیمتوں کی حد کے اقدام کے ابھی تک واضح نتائج نہیں سامنے نہیں آئے ہیں۔اس پابندی پرعمل درآمد کا لائحہ عمل بھی واضح نہیں ہے۔روس کے سمندری تیل پرگروپ سات کی قیمت کی حد 5 دسمبر سے نافذالعمل ہوچکی ہے۔مغربی ممالک نے روسی تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمت 60 ڈالرفی بیرل مقرر کی تھی۔وہ اس اقدام کے ذریعے یوکرین میں روس کی جنگ کی مالی اعانت کی صلاحیت کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔روس نے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کی پاسداری نہیں کرے گا چاہے اسے اپنی پیداوار میں کٹوتی ہی کیوں نہ کرناپڑے۔

شہزادہ عبدالعزیز نے الریاض میں 2023 کے بجٹ اعلانات کے بعد منعقدہ ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں اور قیمتوں کی حد کے حوالے سے اب جو کچھ ہو رہا ہے،ان سب کے واضح نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ روس کا رد عمل اوروہ مغرب کے حربوں کے جواب میں کیا اقدامات کرے گا،یہ ایک اور پہلو ہے جس پر غورکرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے قیمتوں کی حد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حربے سیاسی مقاصد کے لیے وضع کیے گئے تھے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا وہ ان سیاسی مقاصد کو حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2023ء میں مارکیٹ کو متاثرکرنے والے دیگر عوامل میں چین کی کووِڈ-19 کی پالیسیاں شامل ہیں۔

ان پابندیوں میں نرمی سے چین کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کودیکحنے کے لیے اب بھی وقت کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینکوں کے اقدامات بھی ایک عنصر تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ مرکزی بینک اب بھی افراط زر کے انتظام میں مصروف ہیں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ان اقدامات کی لاگت اور عالمی اقتصادی ترقی پران کے ممکنہ منفی اثرات کیا ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگرحالیہ پیش رفتوں پر غور کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ 5 اکتوبر کواوپیک پلس اتحاد کا تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کا فیصلہ درست ثابت ہوا ہے۔

پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ارکان اور روس سمیت اتحادیوں پرمشتمل اس گروپ کا آخری اجلاس 4 دسمبر کو ہوا تھا۔اس میں اس نے کم زور معیشت اورغیر یقینی صورتحال کے تناظر میں پیداوارمیں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔شہزادہ عبدالعزیز نے واضح کیا کہ اتحاد آیندہ سال کے دوران میں مارکیٹ کے استحکام پر توجہ مرکوز رکھے گا۔

ایران کو جوہری ہتھیارمل جاتے ہیں توتمام شرائط ختم ہوجائیں گی:سعودی وزیرخارجہ

Faisal bin Farhan Al-Saud
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان

ریاض، 12دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر ایران کو آپریشنل جوہری ہتھیارمل جاتے ہیں تو تمام شرائط ختم ہوجائیں گی۔ان کا کہنا ہے کہ خلیجی عرب ریاستیں اپنی سلامتی کی ضمانت کے لیے خود آگے بڑھ رہی ہیں۔شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اتوار کو ابوظبی میں ورلڈ پالیسی کانفرنس میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’اگرایران کو آپریشنل جوہری ہتھیارمل جاتا ہے تو تمام شرطیں ختم ہوجائیں گی۔ان سے یہ سوال کیا گیا تھاکہ وہ ایک جوہری ایران کی موجودگی میں کیا منظرنامہ دیکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم خطے میں ایک بہت خطرناک جگہ پرواقع ہیں۔

آپ یہ توقع کرسکتے ہیں اورعلاقائی ریاستیں یقینی طورپراس بات پر ضرور غور کریں گی کہ وہ کس طرح اپنی سلامتی کو یقینی بناسکتی ہیں۔واضح رہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔مغربی طاقتیں ایران پرغیرمعقول مطالبات پیش کرنے کا الزام عاید کررہی ہیں اور روس اور یوکرین کی جنگ کے ساتھ ساتھ 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے ردعمل میں ایران میں جاری داخلی بدامنی اوراحتجاجی مظاہروں پرتوجہ مرکوزکر رہی ہیں۔

اگرچہ الریاض عالمی طاقتوں کے ایران سے جوہری معاہدے کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار ہے، مگرشہزادہ فیصل نے کہا کہ ان کاملک اس معاہدے کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور وہ اس شرط پرایسا کرنے کو تیار ہے کہ یہ تہران کے ساتھ کسی مضبوط معاہدے کے لیے ایک نقطہ آغاز نہیں بلکہ اختتامی نقطہ ہوگا۔خلیجی عرب ریاستیں ایک ایسے مضبوط معاہدے پر زوردے رہی ہیں جو شیعہ ایران کے میزائلوں،ڈرون پروگراموں اورعلاقائی آلہ کار تنظیموں کے نیٹ ورک کے بارے میں ان کے خدشات کودورکرے۔شہزادہ فیصل نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت کے اشارے زیادہ مثبت نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایرانیوں سے سنا ہے کہ انھیں جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں کوئی دلچسپی نہیں، اس بات پریقین کرنے کے قابل ہونابہت اطمینان بخش اور پرسکون ہوگا۔

ہمیں اس سطح پرمزید یقین دہانی کی ضرورت ہے۔دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری ٹیکنالوجی مکمل طورپرشہری مقاصد کے لیے ہے۔متحدہ عرب امارات کے ایک سینئرعہدہ دار نے ہفتے کے روز کہا تھاکہ تہران کے ہتھیاروں کے بارے میں حالیہ واقعات کے پیش نظرجوہری معاہدے کے ’’پورے تصور‘‘پرنظرثانی کرنے کا ایک موقع ہے کیونکہ مغربی ریاستیں روس پر یوکرین پر حملے کے لیے ایرانی ڈرون استعمال کرنے کا الزام عائد کررہی ہیں۔

دو مقدس ترین مساجد کا پیغام پہنچانے کیلئے چینی زبان کی سروس بھی شروع

ریاض ، 12دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)  مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف کی مسجد حرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبویﷺ کے امور کی صدارت عامہ نے متعلقہ حکام کے تعاون سے پیغام کی ترجمانی کیلئے چینی زبان کی سروس بھی شروع کر دی۔ صدارت عامہ نے اس سال خطبہ عرفہ کا 14 بین الاقوامی زبانوں میں ترجمہ کرکے پیش کرنے کا اہتمام کیا۔ زیادہ سے زیادہ دنیا تک رسائی کیلئے جن زبانوں کا اضافہ کیا گیا ان میں انگریزی، فرانسیسی، مالائی، اردو، فارسی، روسی، چینی، بنگالی، ترکی، ہاؤسا، ہسپانوی، سواحلی، تامل اور ہندی شامل ہیں۔

14 زبانوں میں خطبہ حج کی پیشکش کا یہ منصوبہ بے مثال کامیابی سے ہم کنار ہوا اور دنیا بھر سے 200 ملین سے زیادہ افراد خطبہ سے مستفید ہوئے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ دو مقدس ترین مساجد کا پیغام چینی زبان میں بھی دنیا تک پہنچایا گیا۔دو مقدس مساجد کی صدارت عامہ کی جانب سے نہ صرف خطبات اور دروس کا چینی زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے بلکہ زائرین کی رہنمائی اور مشاورت بھی چینی زبان میں کی جاتی ہے۔ جنرل ریزیڈنسی کتابوں کا چینی زبان میں ترجمہ کرنے میں جدید ٹیکنالوجی اور ممتاز اہلیت والے افراد سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔

روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے بھی منصوبے ہیں۔سعودی عرب کے ’’وژن 2030‘‘ کی کامیابی کے طور پر بھی چینی زبان کو فعال کرنا اہم ہے۔ وژن 2030 کا مقصد تعلیمی نظام کو ترقی دینا اور ثقافتوں اور مواصلات کے بانڈز کو جوڑنا ہے۔ صدارت عامہ نے اس حوالے سے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں جن میں لائبریری آف دی ہولی میں خواتین کے حصے کی پہل بھی شامل ہے۔ مکہ مکرمہ کی مسجد حرام میں چینی زبان سیکھنے میں سہولت فراہم کرنے کی کلیدکے عنوان سے ایک تعلیمی ثقافتی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

گزشتہ 5 ماہ میں 40 لاکھ عمرہ ویزے جاری کئے: سعودی وزارت حج و عمرہ

ministry of hajj and umrah

ریاض ، 12دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی وزارت حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ اس سال عمرہ سیزن کے آغاز سے اب تک دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے 40 لاکھ عمرہ ویزے جاری کر دئے گئے ہیں۔یہ ویزے وزارت حج و عمرہ کی ان کوششوں کے فریم ورک کے تحت جاری کئے گئے جن کے تحت متعدد شعبوں کی شراکت داری کے ساتھ حج و عمرہ کے لئے آنے والوں کو سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اسی فریم ورک کے تحت وزارت کی ویب سائٹ اور ’’نسک‘‘ پلیٹ فارم سے الیکٹرانک ویزوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

آنے والے مسلمانوں کو ذاتی، وزٹ اور سیاحت ہر قسم کے ویزے جاری کئے جاتے ہیں تاکہ وہ سعودی عرب میں عمرہ کے مناسک ادا کر سکیں۔ ’’نسک‘‘ ایپ کے ذریعے زائرین روضہ شریف میں حاضری کی بکنگ بھی کراتے ہیں اور وہاں نماز ادا کرتے ہیں۔سعودی عرب نے عمرہ ویزہ کی مدت 30 سے بڑھا کر 90 دن کردی ہے اور معتمرین کیلئے زمینی، فضائی اور سمندری ہر راستے سے مملکت میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ’’نسک‘‘ ایپ کے ذریعہ بیرون ملک سے آنے والے ویزا حاصل کرتے اور عمرہ ادائیگی کے ساتھ مسجد نبوی ﷺ کی زیارت کیلئے بھی بکنگ کراتے ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button