
سعودی عرب کے ساتھ فی الواقع قابل ذکرتاریخی امن ہوسکتا ہے:نیتن یاہو
نیتن یاہو نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی اہمیت کا اعادہ کیا، جو عرب اسرائیل تنازع کوختم کرنے کی طرف ایک ’’انقلابی پیش رفت‘‘ہوگی جو ہمارے خطے کو ان طریقوں سے تبدیل کردے گی جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
دبئی،16دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بنیامین نیتن یاہو تیسری مرتبہ اسرائیل کاوزیراعظم بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ان کے پاس عہدہ سنبھالنے سے قبل حکومت کی تشکیل کے لیے 21 دسمبرتک کا وقت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ فی الواقع قابل ذکر تاریخی امن ہوسکتا ہے۔صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں، مسٹر نیتن یاہو نے عرب ریاستوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات، مشرق اوسط میں امریکی اتحاد کے ڈھانچے، ایران میں بدامنی، اسرائیل کی نئی سخت گیردائیں بازو کی حکومت، لبنان کے ساتھ امریکہ کی ثالثی میں سمندری سرحدی معاہدے کے مستقبل اور روس،یوکرین جنگ پرتبادلہ خیال کیا۔نیتن یاہو نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی اہمیت کا اعادہ کیا، جو عرب اسرائیل تنازع کوختم کرنے کی طرف ایک ’’انقلابی پیش رفت‘‘ہوگی جو ہمارے خطے کو ان طریقوں سے تبدیل کردے گی جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
سعودی حکام مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے بغیراسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات ممکن نہیں۔مسٹر نیتن یاہو نے بند دروازوں کے پیچھے مختلف قسم کے امن کے مواقع تلاش کرنے پرآمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں کھلے معاہدوں پر یقین رکھتا ہوں ،ان تک خفیہ طور پر پہنچیں یا علانیہ پہنچیں۔،اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ان کے اتحادیوں میں سے بعض کے نسل پرستانہ بیانات سے عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات پرکیا اثرپڑسکتا ہے؟مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ دوسری جماعتیں میرے ساتھ شامل ہو رہی ہیں ، میں ان میں شامل نہیں ہوں گا۔انھوں نے واضح کیا کہ وہ لبنان کے ساتھ امریکا کی ثالثی میں ہونے والے سمندری معاہدے کو مسترد نہیں کریں گے ، لیکن اس بات سے انکار کیا کہ یہ ایک امن معاہدہ تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ ہم خیال ریاستوں کے مابین ٹھوس معاہدوں اور ایران اور اس کی آلہ کار تنظیموں کے ساتھ نام نہادمعاہدوں کے مابین بہت بڑا فرق دیکھتے ہیں جن کی عام طور پر دست خط سے پہلے ہی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
نتین یاہو کے مطابق میری پالیسی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے استحکام، امن، خوش حالی اور سلامتی کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ [یہ] ریکارڈ نہ صرف اپنے لیے بولتا ہے، بلکہ یہ مستقبل کے لیے بھی بولتا ہے۔میں حکومت کروں گا اور میں قیادت کروں گا، اور میں اس حکومت کو سنبھالوں گا۔دوسری پارٹیاں میرے ساتھ شامل ہورہی ہیں، میں ان میں شامل نہیں ہو رہا ہوں۔یاد رہے کہ لیکوڈ اس اتحاد کا نصف حصہ ہے۔ دوسری پارٹیاں ہیں ، ان میں سے بعض لیکوڈ کے حجم کے مقابلے میں ایک چوتھائی ہیں یا اس کا پانچواں حصہ ہیں۔وہ ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ وہ میری پالیسی پر عمل کریں گے۔اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق میرے خیال میں فلسطینیوں کے ساتھ تنازع کے کسی حل کے لیے آؤٹ آف داباکس سوچ کی ضرورت ہوگی، نئی سوچ کی ضرورت ہوگی۔ تاریخی ابراہیم معاہدے طے پانے کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس موڈ سے باہرنکل گئے ہیں جس میں محمودعباس رہنا چاہتے ہیں۔جب ہم نے چیزوں کے بارے میں ایک نئے اندازمیں سوچنا شروع کیا تو ہم نے فالج کے اس چکرکوتوڑ دیا جس نے ایک چوتھائی صدی تک امن کو مفلوج کر دیا تھا۔



