روس کی یوکرین پر میزائلوں کی بارش، بجلی کا نظام پھر معطل
وس نے یوکرین پر میزائل برساتے ہوئے ملک بھر میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے
کیف؍لندن ،16دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) روس نے یوکرین پر میزائل برساتے ہوئے ملک بھر میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد شہری محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی عہدیداروں کے حوالے سے کہا کہ اکتوبر کے بعد سے روس نے سب سے زیادہ میزائل آج جمعے کی صبح برسائے جس میں مشرقی علاقے خارکیف کے علاوہ بحیرہ اسود کے قریبی علاقے اوڈیسا اور مغربی یوکرین کو نشانہ بنایا ہے۔میزائل حملے کے بعد دارالحکومت کیف، خارکیف اور سمی کے علاقے میں اکثر مقامات بجلی کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔روسی حملوں سے کیف زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا جبکہ فضائی دفاعی نظام بھی ملک بھر میں فعال تھا۔دوسری جانب ریلوے آپریٹرز کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے سے ریلوے لائنز کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔
یوکرینی ایوان صدر کے نائب سربراہ کے مطابق ایک رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے متعلق خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کے ملبے تلے لوگ پھنسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔انہوں نے سماجی رابطوں کی ایپ ٹیلی گرام پر لکھا کہ فضائی حملوں سے متعلق انتباہ کو نظرانداز نہ کریں اور شیلٹر میں رہیں۔روس نے اکتوبر سے یوکرین کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے شہری بجلی اور گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔روس کا کہنا ہے کہ بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا عسکری نقطہ نظر سے جائز ہے ،جبکہ یوکرین کے مطابق شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرنا جنگی جرم ہے۔خیال رہے کہ روس کرسمس کے موقع پر یوکرین کا فائربندی کا مطالبہ مسترد کر چکا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے رواں ہفتے کہا تھا کہ روس کو کرسمس کے موقع فوجوں کو پیچھے ہٹانا چاہیے تاکہ جنگ خاتمے کی طرف بڑھ سکے۔اس کے جواب میں روسی حکام نے کہا ہے کہ ’یوکرین پہلے روس کو پہنچنے والے نقصان کو تسلیم کرے۔دوسری جانب امریکہ بھی یہ جنگ طویل عرصے تک چلنے کا خدشہ ظاہر کر چکا ہے۔گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایک سوال کے جواب میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’اس وقت ہم جو کچھ یوکرین کی فضاؤں میں اور زمین پر دیکھ رہے ہیں اس کو جلد از جلد سمیٹنا مشکل دکھائی دے رہا ہے اور یہ جنگ برسوں تک چل سکتی ہے۔
یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بھیجنے پر روس کا امریکہ کو انتباہ
ماسکو ،16دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روس نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ یوکرین کو جدید ترین پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل بھیجتا ہے تو ماسکو اسے ایک اشتعال انگیز اقدام سمجھے گا اور اس اقدام کے جواب میں اپنا ردِعمل دے سکتا ہے۔روسی وزارت کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کیف حکومت کو 10 ماہ کی جنگ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگی اور اس کے ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں۔ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ ماسکو کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے لیکن ان کا کہناہے کہ امریکہ کو روس کے انتباہات سے صحیح نتیجہ اخذ کرنا چاہیے کہ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ آلات روسی حملوں کے لیے ایک جائز ہدف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو اسلحے کی ترسیل کے ساتھ امریکہ پہلے ہی جنگ میں مؤثر طریقے سے فریق بن چکا ہے۔خیال رہے کہ امریکہ نے رواں ہفتے صحافیوں کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم یوکرین بھیجنے کے معاہدے کی تصدیق کی تھی۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کا طویل عرصے سے یہ کہنا ہے کہ یوکرین کو بجلی اور پانی کی سہولتوں سمیت اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے روسی فضائی حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے اس میزائل سسٹم کی ضرورت ہے۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے رہنماؤں نے مسلسل کہا ہے کہ یوکرین کو اضافی فضائی دفاع فراہم کرنا ایک ترجیح ہے لیکن اس ہفتے تک وہ پیٹریاٹ میزائل بھیجنے سیر کے رہے تھے۔تاہم یوکرین کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل بمباری کے باعث امریکی حکام نے فیصلہ کیا کہ فضائی دفاعی میزائلوں کی تعیناتی ضروری ہے۔امریکی حکام نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ وہ موسم سرما کے مہینوں کے دوران یوکرینی افواج کے لیے جنگی تربیت کو وسعت دیں گے۔ اس سلسلے میں نئی ہدایات جرمنی کے گرافین ووہر ٹریننگ ایریا میں دی جائیں گی۔



