بین الاقوامی خبریں

اسرائیل کے ساتھ مسلح فوجی مزاحمت کے مخالف،مگر ذہن تبدیل بھی کرسکتا ہوں:محمودعباس

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مسلح فوجی مزاحمت کے خلاف ہیں

دبئی،16دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مسلح فوجی مزاحمت کے خلاف ہیں، لیکن وہ کسی بھی وقت اس بارے میںاپنا ذہن تبدیل‘کرسکتے ہیں۔انھوں نے یہ بات العربیہ سے خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہاکہ میں کسی بھی لمحے اپنے ذہن کوتبدیل کرسکتا ہوں۔یقیناایساہوسکتا ہے کہ کل یا پرسوں یا کسی بھی وقت سب کچھ بدل سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پُرامن عوامی مزاحمت حقیقی ہے لیکن جب دھکا دینے کے لیے دھکا آتا ہے، تو لوگ کچھ بھی کریں گے اورمیں فلسطینی عوام کو اس مرحلے تک پہنچانے اوران کے صبرکا پیمانہ لبریز ہونے کے خلاف انتباہ جاری کرتارہتا ہوں۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انھوں نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کو تحلیل کرنے کی دھمکی دی ہے، محمودعباس نے کہا کہ اس کوکبھی تحلیل نہیں کیا جائے گا، اس کا قیام کئی سال کی جدوجہد کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔ان کاکہنا تھاکہ ہم ایساکبھی نہیں کریں گے۔ہم نے اپنی کوششوں، اپنی جدوجہد اور اپنے شہیدوں سے فلسطینی اتھارٹی کی تعمیر کی۔محمودعباس نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی برقراررہے گی اور فلسطینی ریاست موجود ہے۔ کوئی بھی ہمیں ایسا کرنے پرمجبورنہیں کرسکتا۔قابض اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کرنے کے لیے اقدامات کر سکتا ہے؛لیکن فلسطینی اتھارٹی برقراررہے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button