جب روس نے امریکہ کو لاکھوں ایکڑ زمین کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کی
قدرتی ذخائر سے مالا مال اس خطے کی اتنی کم قیمت پر خریداری کو خود امریکہ میں کیوں ’حماقت قرار‘ دیا گیا؟ اس کے پیچھے ایک دلچسپ داستان ہے۔
نیویارک، 3 جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)الاسکا آج امریکہ کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک ہے جب کہ آج سے 156 برس قبل جب امریکہ نے اس کی زمین روس سے خریدی تو اس فیصلے کو ’حماقت‘ قرار دے کر مذاق اڑایا گیا تھا۔ لیکن کس کو معلوم تھا کہ کوڑیوں کے بھاؤ خریدی گئی یہ زمین Territory of Alaska بعد میں سونا اگلے گی۔امریکہ نے 1867 میں الاسکا کا ساڑھے 15 لاکھ 18 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ 72 لاکھ ڈالر ادا کرکے روس سے خریدا تھا۔ اس قیمت کے حساب سے امریکہ کو الاسکا کی زمین کا ایک ایکڑ دو سینٹ سے بھی کم میں پڑا تھا۔
آج روس اور امریکہ بین الاقوامی سیاست میں ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ دونوں کے درمیان جاری مسابقت میں جہاں کئی دیگر عوامل اس مسابقت کو ٹکر کا مقابلہ بناتے ہیں وہیں امریکہ کا جغرافیہ روس کے مقابلے میں دفاعی اور بحری راستوں پر برتری کا اہم عنصر ہے جس میں الاسکا کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ایک سو چھپن برس قبل روس نے یہ وسیع خطہ امریکہ کو کیوں فروخت کیا؟
قدرتی ذخائر سے مالا مال اس خطے کی اتنی کم قیمت پر خریداری کو خود امریکہ میں کیوں ’حماقت قرار‘ دیا گیا؟ اس کے پیچھے ایک دلچسپ داستان ہے۔
سولہویں صدی میں روسی سلطنت نے اپنے رقبے کو وسعت دینے کے لیے شمالی امریکہ کا رْخ کیا۔ اس کی کوششوں کا دائرہ الاسکا اور اس کے بعد کیلی فورنیا تک پھیل گیا۔الاسکا کی تاریخ پر اپنی کتاب میں مصنفہ لی اے فیرو لکھتی ہیں کہ اس مہم جوئی میں 1581 میں ایک اہم موڑ آیا جب سائبیریامیں چنگیز خان کے پوتے کے زیر تسلط ریاست روس کے قبضے میں چلی گئی۔ اس کے بعد آئندہ 60 برسوں کے دوران روس نے بحر الکاہل سے ملحقہ علاقوں کی جانب تیزی سے بڑھنا شروع کردیا۔مورخین کے مطابق سردی میں جسم گرم رکھنے والی کھال اور جانوروں سے حاصل ہونے والے پروں اور اون کی منافع بخش تجارت کی وجہ سے روس سائبیریا کے پار اس علاقے کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
اس کے علاوہ روسی سلطنت ان علاقوں میں آرتھوڈوکس مسیحی عقائد کا پرچار بھی کرنا چاہتی تھی۔اٹھارہویں صدی کے آغاز میں روس کے شہنشاہ پطرس اعظم یا پیٹر دی گریٹ نے روس کی بحری فوج تیار کی تھی۔ وہ سلطنت کو وسعت دینے کے لیے روس کے مشرق میں ایشیائی سرزمین اور خشکی پر پھیلے علاقوں تک نئی علاقے دریافت کرنا چاہتے تھے۔اس مقصد کے لیے پیٹر نے سائبیریا سے دو مہمات روانہ کیں جن میں سے ایک 1741 میں الاسکا کے ایک گاؤں کے قریب پہنچی۔ اس مہم میں شامل افراد کو ان ساحلی علاقوں میں لومڑی، اود بلاؤ اور سمندری سیلز کا بڑا ذخیرہ دکھائی دیا۔ سرد علاقوں میں ان جانوروں کی کھال اور بال ایک بیش قیمت سرمایہ سمجھے جاتے تھے۔ان اشیا کی تجارت کے لیے روس نے اس علاقے میں آبادکاری شروع کی لیکن سخت موسم اور خوراک سمیت دیگر ضروریات کی فراہمی میں حائل مشکلات کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر آبادیاں بسانا ممکن نہیں تھا۔الاسکا کے وسیع و عریض زمین پر روسیوں کی آبادی کبھی800 نفوس سے تجاوز نہیں کرسکی۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ سلطنتِ روس کے پایہ تخت سینٹ پیٹرز برگ سے بہت دور تھا جس کی وجہ سے رابطے اور رسل و رسائل کے مسائل بھی درپیش تھے۔



