یوکرین جنگ میں خودکار ڈرون کے استعمال کا خدشہ، کیا جنگی اُصول بدل ر ہے ہیں؟
تاہم اب تک ایسی کوئی مصدقہ مثال نہیں ملتی کہ کسی قوم نے ایسے جنگی روبوٹس میدان میں اتارے ہوں جنہوں نے مکمل طور پر خود مخالفین کو نشانہ بنایا ہو۔
لندن ، 4جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) یوکرین میں جدید ڈرون کی حالیہ پیش رفت نے طویل عرصے سے متوقع ٹیکنالوجی کے رجحان کو تیز کر دیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یوکرین جلد ہی دنیا کے پہلے مکمل طور پر خود مختار لڑنے والے روبوٹس کو میدانِ جنگ میں لا سکتا ہے اور اس سے جنگ کے ایک نئے دور کا ممکنہ آغاز ہو سکتا ہے۔عسکری مبصرین اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین کے مطابق جنگ جتنی طویل ہو گی اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ ڈرون کو انسانوں کی مدد کے بغیر اہداف کی شناخت، انتخاب اور ان پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ڈرون سے فوجی ٹیکنالوجی میں اتنا ہی گہرا انقلاب آئے گا جتنا کہ مشین گن کے تعارف سے آیا تھا۔خبررساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق یوکرین کے پاس پہلے سے ہی نیم خود مختار حملہ آور ڈرون اور انسداد ڈرون ہتھیار موجود ہیں جب کہ روس بھی ایسے ہی ہتھیار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے البتہ ابھی تک یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔
تاہم اب تک ایسی کوئی مصدقہ مثال نہیں ملتی کہ کسی قوم نے ایسے جنگی روبوٹس میدان میں اتارے ہوں جنہوں نے مکمل طور پر خود مخالفین کو نشانہ بنایا ہو۔ماہرین کا کہنا ہے کہ روس یا یوکرین، یا دونوں کا جنگ میں ایسے روبوٹس کو استعمال کرنا صرف تھوڑے وقت کی بات دکھائی دیتی ہے۔ان روبوٹس کے ناگزیر استعمال کے بارے میں احساس ان کارکنوں کو بھی ہے جو قاتل ڈرونز پر پابندی لگانے کے لیے برسوں سے کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اب انہیں بھی یقین ہے کہ انہیں ہتھیاروں کے جارحانہ استعمال کو محدود کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔اس ضمن میں بات کرتے ہوئے یوکرین کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن منسٹر میخائیلو فیڈروف کہتے ہیں کہ مکمل طور پر خود مختار ڈرون ہتھیاروں کی تیاری ایک منطقی اور ناگزیر قدم ہو گا اور یوکرین اس سمت میں بہت زیادہ تحقیق و ترقی کر رہا ہے۔
فیڈروف نے ایک حالیہ انٹرویو میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کے خیال میں آئندہ چھ ماہ میں اس بات کے حقیقت بننے کا امکان بہت زیادہ ہے کہ یوکرین جنگ میں خودکار ڈرون حصہ لیں گے۔یوکرین کے جنگی ڈرون بنانے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم ایروروزوڈکا کے شریک بانی لیفٹننٹ کرنل یاروسلاو ہونچار کہتے ہیں کہ یوکرین کے فوجی حکام نے فی الحال مکمل طور پر خودمختار مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی لگا ئی ہوئی ہے حالاں کہ ان کا یہ فیصلہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ان کے بقول ہم نے ابھی تک اس لائن کو عبور نہیں کیا اور میں نہیں جانتا کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔
کرنل یاروسلاو کا گروپ یوکرین میں ڈرون کی تخلیق کا کام کرتا ہے جس نے سستے تجارتی ڈرون کو مہلک ہتھیاروں میں تبدیل کیا ہے۔روس ایران یا کسی اور جگہ سے خود مختار مصنوعی ذہانت یعنی ڈرون حاصل کر سکتا ہے۔ایران کی طرف سے فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ‘شہد ا 136’ پھٹنے والے ڈرونز نے یوکرین کے پاور پلانٹس کو تباہ کیا ہے اور شہریوں کو دہشت زدہ کر دیا ہے، البتہ یہ ڈرون زیادہ اسمارٹ نہیں ہیں۔ایران کے پاس بڑھتے ہوئے ہتھیاروں میں دوسرے ڈرونز بھی ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں مصنوئی ذہانت بھی موجود ہے۔



