بین الاقوامی خبریں

پاکستان کو مشکل معاشی صورتِ حال درپیش، کوئی بہتری نظر نہیں آتی

گزشتہ 12ماہ کے دوران زرِ مبادلہ کے ذخائر میں لگ بھگ 12 ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

کراچی ،5جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پاکستان ان دنوں شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگائی میں ہونے والے حالیہ اضافے پر کنٹرول، غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی، برآمدات میں اضافہ کرنا اور قومی بچت پروگرام پر عمل درآمد کرانا حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ایسے میں ماہرین ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ پاکستان کی معاشی صورتِ حال میں نئے سال کے دوران کسی بہتری کا امکان نہیں اور حکومت کو 2023 میں بھی اقتصادی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔معروف بروکریج ہاؤس اے کے ڈی سیکیورٹیز کمپنی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیاسی غیر یقینی اور معیشت بے سمت نظر آتی ہے اورحکومتِ پاکستان کے پاس معیشت کی اصلاح کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔پاکستان کو رواں سال 23 ارب ڈالرز کے قرضے اتارنے ہیں اور تقریباً 9.5 ارب ڈالرز کے جاری کھاتوں کے اخراجات پورا کرنے کے لیے درکار ہوں گے۔ اس صورتِ حال میں مرکزی بینک کے پاس غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر محض 5.8 ارب ڈالرز رہ چکے ہیں۔گزشتہ 12ماہ کے دوران زرِ مبادلہ کے ذخائر میں لگ بھگ 12 ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

یوں رواں مالی سال میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور اس کے مقابلے میں غیر ملکی زرِمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں مالی سال میں غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر میں کوئی خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔ رواں سال برآمدات ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے آنے والی ترسیلات زر کم رہنے کے ساتھ غیرملکی سرمایہ کاری میں بھی بتدریج کمی دیکھی جارہی ہے۔اس صورتِ حال میں سیلاب سے پیدا شدہ حالات نے ملک کو انسانی بحران کے ساتھ غذائی بحران کی جانب بھی دھکیل دیا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں آٹے کی قیمت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔

حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کا تخمینہ الگ 16 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ترقی کی شرح اندازوں سے کم رہنے کی توقع کی جارہی ہے جس سے بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ فی کس آمدنی میں کمی سے مزید لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جانے کی توقع ہے۔وفاقی حکومت نے منگل کو توانائی کی درآمدات کو کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت کاروباری سرگرمیاں رات آٹھ بجے اور شادی ہالز دس بجے بند کیے جائیں گے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے 200 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوگی۔لیکن معاشی ماہر عبدالعظیم کا خیال ہے کہ حکومت کو معاشی پالیسیوں کو معقول بنانے کے لیے جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے اور ایسے فیصلے کرنے سے حکومت اس لیے کترارہی کیوں کہ اس کی نظریں آئندہ انتخابات پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button