بین الاقوامی خبریں

6 جنوری کے حملے کے دو سال بعد امریکہ کہاں کھڑا ہے ؟

ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اور خود ری پبلکن پارٹی کے اندر بھی انتشار پایا جاتا ہے

 واشنگٹن ،7جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) واشنگٹن کی ایک خاصیت ہے جو ایک طویل عرصے سے برقرار ہے اور وہ ہے ملک کے کسی سانحے کو یاد رکھنا اور اس پر اکٹھے ہونا۔11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد ڈیمو کریٹس اور ری پبلکنز کیپٹل بلڈنگ کی سیڑھیوں پر اکٹھے کھڑے ہوئے اور گاڈ بلیس امریکہ(خدا امریکہ کو محفوظ رکھے) نامی ترانہ گایا۔ لیکن متحد ہونے کا یہ جذبہ اب ماند پڑ گیا ہے۔اس وقت ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اور خود ری پبلکن پارٹی کے اندر بھی انتشار پایا جاتا ہے۔ وہ پارٹی جس نے ایک وقت میں قومی سانحے کو یاد رکھنے اور اس پر متحد ہونے کی خصوصیت کو برقرار رکھا تھا اب ویسی نہیں ہے جیسی وہ پہلے ہوا کرتی تھی۔

کیپٹل بلڈنگ پر 6 جنوری کے حملے کے دو سال مکمل ہونے پر بیشتر ڈیموکریٹس نے ایک منٹ کی خاموشی کے ساتھ شرکت کی۔نئے او ر آنے والے ڈیمو کریٹ رہنماؤں ، نینسی پلوسی اورحکیم جیفریز نے مختصر تقاریر کیں جب کہ ری پبلکن پارٹی کی طرف سے کسی نے تقریر نہیں کی۔یہ تقریب اس روز بلڈنگ کی حفاظت کرنے والے دارا لحکومت کے پولیس افسروں اور ان خاندانوں اور نفاذ قانون کے ان افسروں پر مرکوز تھی جو بلوے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔یہ صورت حال 11 ستمبر کے حالات سے بہت مختلف ہے جب قانون سازوں نے دہشت گرد حملوں کے دوران کیپیٹل بلڈنگ کو خالی کر دیا تھا۔

پھر اسی دن بعد میں وہاں اکٹھے ہوئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور ری پبلکنز اور ڈیمو کریٹس نے کندھے سے کندھا ملا کریہ نغمہ گایا تھا۔اور اس وقت دنیا ایک مختلف تصویر دیکھ رہی ہے ، ملک کی مقننہ کی شاخ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہے ، مگر اس مرتبہ تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ ریپبلکن کے درمیان اس بارے میں کشمکش کی وجہ سے کہ ایوان میں اسپیکر کے طور پر کسے قیادت کرنی چاہئے۔ تاہم اطلاع کے مطابق میکارتھی ایوان نمائندگان کے اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button