ایران میں فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو 5 سال قید کی سزا سنا دی گئی
اکبر ہاشمی رفسنجانی کو 1979 میں انقلاب کی فتح کے بعد اس دور کی سب سے نمایاں ایرانی شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے
تہران، 9جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران میں عدلیہ نے سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی Faezeh Hashemi Rafsanjan کی بیٹی فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو 5 سال قید کی سزا سنا دی۔بارسینہ ویب سائٹ کے مطابق ایک عدالت نے اتوار کو فائزہ ہاشمی رفسنجانی کے خلاف الزامات پر غور کرنے کے لیے سماعت کی اور فائز ہ کو 5 سال قید کی سزا سنا دی۔اس سے قبل تہران میں انقلابی عدالت کی پندرہویں شاخ کی ابتدائی عدالت نے فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ سرگرمیوں کے جرم کے ارتکاب پر 6 ماہ قید اور سیاسی، ثقافتی اور صحافتی سرگرمیوں سے 5 سال کی پابندی عائد کی تھی۔ یاد رہے 59 سال کی فائزہ ہاشمی رفسنجانی اصلاح پسند بلڈنگ کیڈرز پارٹی کی رکن ہیں۔
2012 میں بھی فائزہ کو اسلامی جمہوریہ کے خلاف پروپیگنڈے کے الزام میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اکبر ہاشمی رفسنجانی کو 1979 میں انقلاب کی فتح کے بعد اس دور کی سب سے نمایاں ایرانی شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے 1989 سے 1997 کے درمیان ملک کی صدارت سنبھالی۔ وہ اعتدال پسند گروہ سے وابستہ تھے اور مغربی ممالک اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے حامی تھے۔
تین مزید ایرانی مظاہرین کو سزائے موت، تعداد 17 ہو گئی
تہران، 9جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران میں مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنے کے الزام میں تین شہریوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ تین ماہ سے جاری مظاہروں کے شرکا میں سے اب تک 17 کو سزائے موت سنائیzجا چکی ہے تاہم حالیہ سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔16 ستمبر کو کرد ایرانی خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست کے دوران ہونے والی ہلاکت کے بعد سے پورے ملک میں مظاہرے ہوئے جن میں اسلامی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ایرانی حکومت نے سزا یافتہ افراد میں سے چار کو پھانسی دے دی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے دو اور شہریوں کی پھانسی کی سزا کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ایرانی عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹ ’میزان آن لائن‘ پر کہا گیا ہے کہ صالح میرہاشمی، ماجد کاظمی اور سعید یعقوبی کو ’اللہ کے خلاف جنگ‘ لڑنے پر پھانسی دی گئی۔
ویب سائٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی ہلاکت کے واقعے میں دیگر دو شہریوں کو قید کی سزا سنائی گئی ہے۔عدلیہ کی ویب سائٹ پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تمام سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔نومبر میں مغربی شہر کرج میں پیرا ملٹری اہلکاروں کو قتل کرنے پر دو شہریوں محمد مہدی کریمی اور سید محمد حسینی کو سنیچر کو پھانسی دی گئی تھی۔جبکہ سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک اور حملے میں ملوث ہونے پر دو شہریوں محسن شکاری اور مجید رضا کو دسمبر میں سزائے موت دی گئی تھی۔مظاہرین کو سزائے موت دینے کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے جبکہ مغربی ممالک نے مزید پابندیاں بھی عائد کرنے کا کہا ہے۔
ایرانی فورسز کی تہران میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ
تہران، 9جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایرانی سیکورٹی فورسز نے دارالحکومت تہران کے ہفت حوض محلے میں مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلا دیں۔ مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کے جابرانہ طرز عمل کے خلاف اتوار کو نئے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ گرفتاریوں اور موت کی سزاؤں کے خلاف یوم بدلہ کے نام سے احتجاج شروع کیا گیا۔ایران کے علاقے بلوچستان کے مقدمات میں مہارت رکھنے والی ویب سائٹ حال وشکے مطابق زاہدان کی عدالت نے 20 سالہ کامبیز خروت کو زمین پر بدعنوانی کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ ویب سائٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس نوجوان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے وکیل مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سے قبل ایرانی حکام کی جانب سے دو نوجوانوں کو پھانسی دینے کے اثرات ملک میں بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصے کے درمیان اب بھی جاری ہیں۔ دو نوجوانوں محمد مہدی کرمی اور محمد حسینی کو ہفتہ کی صبح پھانسی دے دی گئی تھی۔
ان دونوں پر 3 نومبر کو احتجاج کے دوران بسیج کے اہلکار روح اللہ کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپوں کی طرف سے ان دونوں افراد کو معاف کرنے کی مہم کے باوجود دونوں کی سزائے موت پر عمل کرتے ہوئے انہیں پھانسی دے دی گئی تھی۔ ایرانی فیصلوں پر بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تنقید جاری ہے۔ ایرانی نژاد یورپی پارلیمنٹیرینز اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں بڑھتی ہوئی پھانسیوں کی مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پھانسیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدام کرے۔گزشتہ سال 16 ستمبر سے ایران میں 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مہسا کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت ہوئی تھی جس نے ایرانی عوام کو مشتعل کر دیا تھا۔ حکام کی جانب سے مظاہرین پر تشدد سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عدلیہ کے مطابق ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور ان میں سے 14 کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔



