بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب میں بارشوں کے بعد ’ٹرفل‘ کا سیزن شروع

 "الفقع" (Truffle) نامی خودرو کھنبی سب سے زیادہ فروخت کی جا رہی ہے

تہران،23جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سعودی عرب کے مختلف علاقوں بالخصوص شمالی علاقوں میں  "الفقع” (Truffle) نامی خودرو کھنبی سب سے زیادہ فروخت کی جا رہی ہے۔اس موسم میں ’ٹرفل پلانٹ‘ یا ’ٹرفل‘ جزیرہ نما عرب کے لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز ہوتی ہے۔سعودی شہری اپنی خوراک میںٹرفلز کھانے اور استعمال کرنے کو بہت پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک خودرو نبات ہے جو بارشوں کے موسم میں اُگتی ہے۔ عام طور ٹرفل زیادہ تر سردیوں کے موسم کی آمد سے پہلے اگتی ہے۔ خاص طور پر سعودی شہری اس کے بہت دل دادہ ہوتے ہیں۔ عرب اور خلیجی ممالک میں صحرا میں اگنے والی اس نباتات کو ورثے کی کتابوں میں بنت الرعد کہا جاتا ہے۔شمالی سرحدی علاقے میں ’ٹرفل‘ کی منڈیوں میں ان دنوں اس کی زبردست مانگ دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں موسم بہار کے آثار نظر آتے ہیں اور اس سال کے شروع میں اس خطے کے صحراؤں میں ٹرفل کی کئی اقسام دستیاب ہیں۔

یہ صحرائی فنگس کی سب سے لذیذ اور قیمتی اقسام میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ٹرفل صحراؤں میں آلو کی شکل میں زیر زمین اگتے ہیں۔ صحرائی پودے کی ایک قسم بلوط جیسے بڑے درختوں کی جڑوں کے قریب ہوتی ہے اور اس کی شکل گول ہوتی ہے۔ گوشت کی طرح نرم اور ڈھیلا ہونے کے ساتھ اس کی سطح ہموار یا تپ دار ہوتی ہے۔ اس کا رنگ سفید سے سیاہ تک مختلف ہوتا ہے اور یہ مختلف سائز میں ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ نٹ کے سائز کے ہوتے ہیں۔ جب کہ کچھ سنگترے کے سائز کے بڑے ٹرفل بھی پائے جاتے ہیں۔ٹرفل بیچنے والے فواز الاسلمی نے بتایا کہ اس سیزن میں ٹرفل کی بہت مانگ ہوتی ہے اور ایک کاٹن کی قیمت 3000 ریال تک پہنچ سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیزن ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور ایک کیلو 250 ریال سے شروع ہو کر 600 تک دستیاب ہے، قیمت ہر ٹرفل کے سائز کے حساب سے لگائی جاتی ہے۔فروری کے مہینے میں اس سے زیادہ مقدار متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button