یوم تاسیس، سعودی آسمان پر غبارہ اڑانے والا پہلا سعودی پائلٹ
سعودی پائلٹ عبدالرحمن الوھیبی غبارے کو اڑانے میں اپنی مہم جوئی کو سعودی عرب منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
ریاض،24فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) فخریہ جذبات کے ساتھ سعودی پائلٹ عبدالرحمن الوھیبی غبارے کو اڑانے میں اپنی مہم جوئی کو سعودی عرب منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ ایڈونچر جس کی کہانی 2019 میں ریاست آسٹریلیا میں شروع ہوئی جب الوھیبی اس تجربے میں داخل ہوا۔ پائلٹ نے غبارے کرنے کے تجربہ کی عظمت کو دریافت کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے یوم تاسیس پر اپنے غبارے کے افتتاح کا فیصلہ کیا۔ الوھیبی نے غبارہ اڑانے کے لیے تمام مشکلات برداشت کیں۔انٹرویو میں الوھیبی نے کہا کہ غبارے پر سواری کی مہم جوئی میرے لیے ایک جنون بن گئی ہے۔ میں نے غبارے کو سعودی عرب لے جانے کا خواب دیکھا اور اپنی خواہشات کو رکنے نہیں دیا۔
میں نے غبارہ اڑانے کی تربیت شروع کی اور 2020 میں آسٹریلیائی پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا۔عبدالرحمن الوھیبی نے مزید کہا کہ میں نے آسٹریلیا میں غبارے میں اڑنے کا ایڈونچر آزمایا، مختلف علاقوں، دیہی علاقوں اور شہروں میں، ہوائی اڈے اور سمندر کے اوپر دوستوں کے ساتھ غبارہ پر 35 سے زائد دورے کیے۔ سعودی عرب واپسی کے بعد میں نے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کی طرف سے جاری کردہ سعودی بیلون پائلٹ کے لائسنس کے حصول کے لیے طریقہ کار پر عمل شروع کردیا۔ اس دوران میں نے اڑان بھرنے کے لیے درکار مہارت کو برقرار رکھنے کے لیے جمہوریہ چیک، سلووینیا، آسٹریا اور امارات میں بھی غبارے اڑائے۔عبد الرحمن الوھیبی نے 2022 کے وسط میں پہلا سعودی لائسنس حاصل کرنے اور اس کے اجرا کی تصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا غبارہ کی پرواز لائسنس جاری ہونے کے فوراً بعد غبارے کی خرید و فروخت کا عمل شروع ہوا اور اس عمل کو ابہام نے گھیر لیا۔
اس سے قبل ایسا تجربہ نہیں ہوا تھا۔ خاص طور پر غبارے کی خصوصیات اور سعودی ماحول کے لیے اس کی مناسبت اور اس سے متعلق قانون سازی اور ضوابط کے حوالے سے ابہام موجو د تھا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا چیک ریپبلک میں صنعت کار کے ساتھ اگست 2022 کے مہینے میں ایک معاہدہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ اسے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے ساتھ رجسٹر کرنے کا عمل شروع ہوا۔ اس کی تیاری اور فراہمی سال کے اختتام سے پہلے مکمل ہو گیا تھا۔ غبارے کی رجسٹریشن چیلنجوں سے بھری ہوئی تھی کیونکہ غبارے کو ہوائی جہاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اسی طرح رجسٹر ہونے والا پہلا سعودی غبارہ ہونے کے ناطے ہم نے فروری کے وسط میں طریقہ کار مکمل کیا۔اسی تناظر میں عبد الرحمن نے سعودی سرزمین پر پرواز کی اپنی خوشی اور فخر کے جذبات کو ناقابل بیان قرار دیا اور کہا میں نے اس خواب کی تعبیر میں انتہائی خوشی کی وجہ سے ہمیشہ مملکت کی خوبصورتی اور اس کے قدرتی مناظر کو دیکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلی پرواز کے طور پر ریاض شہر کے قریب پرواز کی۔



