عمران خان کے خلاف زیر تفتیش ’القادر ٹرسٹ‘ کیس کیا ہے؟
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو زیر تفتیش القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیاگیا ہے
اسلام آباد ، 10مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے (نیب) نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو زیر تفتیش القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیاگیا ہے۔نیب نے منگل کو رینجرز کی معاونت سے عمران خان کو اس وقت تحویل میں لیا جب وہ اپنے خلاف مقدمات میں پیشی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود تھے۔نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں کرپشن کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔عمران خان کے خلاف زیرِ تفتیش القادر ٹرسٹ کیس کیا ہے؟ اس بارے میں ذیل میں کچھ جائزہ لیا گیا ہے۔عمران خان کے دورِ حکومت میں القادر ٹرسٹکی بنیاد 2019 میں رکھی گئی جس کے ٹرسٹی عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ان کی قریبی دوست فرح گوگی ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور عمران خان کی مختلف مقدمات میں پیروی کرنے والے وکیل بابر اعوان بھی اس ٹرسٹ کے بورڈ کا حصہ رہے ہیں۔القادر ٹرسٹ اُس وقت قائم کیا گیا تھا جب اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ سے ایک لفافے میں بند کاغذ پر درج سمری کی منظوری لی تھی۔ جس کے تحت برطانیہ سے پاکستان کو موصول ہونے والے 190 ملین پونڈ کی رقم کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیا گیا تھا۔پاکستان کو یہ رقم بحریہ ٹاؤن کے برطانیہ میں ایک تصفیے کے نتیجے میں منتقل کی گئی تھی۔بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے مقدمہ لڑنے کے بجائے برطانوی تحقیقاتی ایجنسی سے تصفیہ کر لیا تھا جب کہ این سی اے نے 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاست پاکستان کی ملکیت قرار دی تھی۔
لیکن یہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں پہنچنے کے بجائے سپریم کورٹ کے اُس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 بلین روپے ایک تصفیے کے تحت قسطوں میں ادا کر رہے ہیں۔اور یوں برطانیہ سے ریاست پاکستان کو منتقل ہونے والی رقم ملک ریاض کے سپریم کورٹ میں ادائیگی کے لیے دے دی گئی۔عمران خان کی کابینہ کے رکن فیصل واوڈا یہ کہہ چکے ہیں کہ کابینہ نے بند لفافے میں سمری کی منظوری دی تھی جو کہ برطانیہ سے موصول 190 ملین پونڈ کی ملک ریاض کی جرمانے کی ادائیگی کے لیے منتقل کی گئی۔تین دسمبر 2019 کو وفاقی کابینہ سے بند لفافے میں سمری کی منظوری کے بعد حکومت نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاست پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا۔



