اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم اسلامک جہاد کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق
دبئی،8اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) غزہ میں اسرائیل اور اسلامی جہاد کے عسکریت پسندوں کے درمیان مصر کی ثالثی میں ایک ’کمزور‘ جنگ بندی ہو گئی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کی صبح ہونے والی اس جنگ بندی نے اس حالیہ تنازعہ، جس میں 15 بچوں سمیت 44 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں، کے خاتمے کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔جنگ بندی جس کا باضابطہ آغاز اتوار کو رات 11:30 بجے ہوا، کا مقصد گزشتہ برس اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ جنگ کے بعد اب غزہ میں ہونے والی بدترین لڑائی کو روکنا تھا۔
اگرچہ جنگ بندی سے پہلے اور بعد میں جنوبی اسرائیل میں سائرن بجنے کے ساتھ ہی حملوں اور راکٹ حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ تاہم کسی بھی فریق نے جنگ بندی کے چار گھنٹے بعد معاہدے کی کسی بڑی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں دی۔جنگ بندی شروع ہونے کے تین منٹ بعد اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی علاقے کی طرف فائر کیے جانے والے راکٹوں کے جواب میں(فوج) فی الحال غزہ میں اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے وسیع اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔اس کے بعد کے ایک اور بیان میں اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ اس نے ’آخری‘ حملہ رات 11:25 پر کیا تھا۔
دونوں فریقوں نے جنگ بندی پر اتفاق تو کر لیا ہے لیکن ساتھ ہی ایک دوسرے کو خبردار بھی کیا ہے کہ کسی بھی تشدد کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کیا کہ اس ثالثی میں ان کے ملک نے کردار ادا کیا ہے۔جو بائیڈن نے شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا، جسے انہوں نے ’المیہ‘ قرار دیا۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ پچھلے 72 گھنٹوں کے دوران امریکہ نے اسرائیل، فلسطینی اتھارٹی، مصر، قطر، اردن، اور دیگر کے ساتھ پورے خطے میں تنازعات کے فوری حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کیا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے امن مندوب ٹور وینس لینڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’صورتحال اب بھی بہت نازک ہے، اور میں تمام فریقین سے جنگ بندی کی پابندی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حالیہ تنازع پر پیر کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ چین جس کے پاس اس ماہ کونسل کی صدارت ہے،نے متحدہ عرب امارات کی درخواست کے جواب میں سیشن طے کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم یائرلبید کے دفتر نے اتوار کی رات دیر گئے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ’مصر کی کوششوں‘ کا شکریہ ادا کیا لیکن یہ کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو اسرائیل سخت جواب دینے کا حق برقرار رکھتا ہے۔
اسرائیلی جارحیت، غزہ میں انسانی بحران،1500 مکانات تباہ
غزہ میں فلسطینی حکومت کی وزارت اطلاعات نے اطلاع دی ہے کہ مسلسل تیسرے دن اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے جن میں 6 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں جب کہ 265 فلسطینی زخمی ہیں جن میں سے 20 کی حالت خطرے میں ہے۔دفتر نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے9 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں، اور تقریباً 1500 ہاؤسنگ یونٹس کو نقصان پہنچا، جن میں سے 16 مکمل طور پر تباہ، 71 ناقابل رہائش، اور 1400 یونٹس کو جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
درجنوں زرعی ایکڑ اراضی کو بھی نقصان پہنچا۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں بجلی کا نظام درہم برہم ہے اور کئی علاقے بجلی کی سپلائی لائنیں کٹ جانے کے باعث اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔
بجلی کے تعطل کے باعث غزہ میں انسانی بحران کا خدشہ ہے۔ بمباری کے باعث شہریوں کو صرف 20 فیصد تک بجلی کی سہولت دستیاب ہے۔ 572 میگا واٹ میں سے 120 میگا واٹ دستیاب ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ جارحیت کے جاری رہنے کی وجہ سے پیر کو ہونے والے تکمیلی امتحانات کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔



