بین الاقوامی خبریں

نیوزی لینڈ میں گائے کے ڈکارلینے پر ٹیکس کی تجویز پیش

نیوزی لینڈ کی آبادی صرف 50 لاکھ ہے لیکن ایک کروڑ کے لگ بھگ مویشی اور دو کروڑ 60 لاکھ بھیڑیں پائی جاتی ہیں نیوزی لینڈ کی آبادی صرف 50 لاکھ ہے لیکن ایک کروڑ کے لگ بھگ مویشی اور دو کروڑ 60 لاکھ بھیڑیں پائی جاتی ہیں

لندن، 13اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اگر وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو نیوزی لینڈ گائے کے ڈکار پر ٹیکس عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ اس رقم کو ماحولیات کو بہتر بنانے والی نئی ٹیکنالوجی پر خرچ کیا جائے گا۔سن 2050 تک کاربن کے اخراج پر قابو پانے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے نیوزی لینڈ کی جیسنڈا آرڈن حکومت ایک متنازع تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت زرعی فارموں میں گرین ہاوس گیس پیدا کرنے والے جانوروں پر ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔اس نئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے غرض سے گایوں کے ڈکار اور بھیڑوں کے پیشاب سے پیدا ہونے والے گرین ہاؤس گیسوں کے لیے ان پر ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔

نیوزی لینڈ کے طاقت ور زرعی شعبے نے فوری طور پر اس تجویز کی مذمت کی ہے۔

نیوزی لینڈ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ زرعی ٹیکس دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا ہوگا اور کسان ماحول دوست اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اضافی خرچ پورا کرسکیں گے۔نیوزی لینڈ کی آبادی صرف 50 لاکھ ہے لیکن ایک کروڑ کے لگ بھگ مویشی اور دو کروڑ 60 لاکھ بھیڑیں پائی جاتی ہیں نیوزی لینڈ کی آبادی صرف 50 لاکھ ہے لیکن ایک کروڑ کے لگ بھگ مویشی اور دو کروڑ 60 لاکھ بھیڑیں پائی جاتی ہیں۔زرعی صنعت کے سب سے بڑی لابی گروپ فیڈریٹیڈ فارمرز سے وابستہ کسانوں نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اندرون ملک خوراک کی پیداوار کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔گروپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس منصوبے سے نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے ملک کو بری طرح نقصان پہنچے گا اور مویشیوں کے باڑوں کی جگہ درخت لے لیں گے۔

فیڈریٹیڈ فارمرز کے صدر اینڈریو ہوگارڈ کا کہنا تھا کہ مویشی پالنے والے دو سال سے زیادہ عرصے سے گیسوں کے اخراج میں کمی کے ایسے منصوبے پر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت اناج کی پیداوار میں کمی نہیں ہونے پائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ ٹیکس کی وجہ سے مویشی پالنے والے اتنی تیزی سے اپنے فارم فروخت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ آپ چلتی ہوئی گاڑی (پک اپ ٹرک) کے عقب میں بھونکتے ہوئے کتوں کی آواز تک نہیں سنیں گے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں کا استدلال ہے کہ اس طرح کا ٹیکس لگانے کا منصوبہ، فارمز کی کم خوراک پیدا کرنے والے ملکوں میں منتقلی کی وجہ سے گیسوں کے زیادہ اخراج کا سبب بنے گا۔وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ ٹیکس لگانے سے نیوزی لینڈ کے زرعی شعبے کو تقویت ملے گی کیونکہ اس سے حاصل ہونے والی تمام رقم نئی ٹیکنالوجی، صنعتی شعبے میں تحقیق اور کسانوں کو ترغیبی ادائیگیوں پر خرچ کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button