
ہرات، 19 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) افغانستان کے مغربی شہر ہرات کے قریب ایک ایسی بستی کا ذکر سامنے آتا رہا ہے جہاں شدید غربت اور معاشی مشکلات نے کئی خاندانوں کو اپنے گردے فروخت کرنے پر مجبور کر دیا۔ سیشنبہ بازار کے نام سے معروف اس علاقے کو بعض رپورٹس میں ’ون کڈنی ولیج‘ کہا گیا، کیونکہ یہاں متعدد افراد اپنے جسم کا ایک گردہ فروخت کر چکے ہیں۔
یہ لوگ پیدائشی طور پر کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کا گردہ نکالنا پڑا ہو۔ رپورٹس کے مطابق، معاشی تنگ دستی، بے روزگاری اور خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات نے بعض افراد کو گردہ فروخت کرنے جیسے انتہائی قدم کی طرف دھکیلا۔
ہرات کے مضافات میں موجود اس بستی میں بڑی تعداد میں ایسے خاندان آباد ہیں جو طویل عرصے سے مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض خاندانوں کے متعدد افراد بھی اپنے گردے فروخت کر چکے ہیں۔ ایک خاندان کے پانچ بھائیوں کے بارے میں بھی رپورٹ کیا گیا کہ انہوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران غربت سے نکلنے کی امید میں اپنے اپنے گردے فروخت کیے۔
افغانستان میں گردوں کی خرید و فروخت کا معاملہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے بھی موجود تھا، تاہم معاشی بحران اور روزگار کے محدود مواقع نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کیا۔ رپورٹس کے مطابق ہرات کے غریب اور بے گھر طبقات میں بعض افراد گردہ فروخت کرنے کو فوری مالی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔
ہرات میں گردوں کی پیوند کاری کرنے والے بعض ڈاکٹروں نے بتایا کہ ٹرانسپلانٹ کے لیے عطیہ دینے والے کی رضامندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ ایک سرجن کے مطابق، ڈونر سے تحریری اجازت لینے کے ساتھ اس کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جاتی ہے۔ تاہم رپورٹس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ انتہائی غربت میں کیے جانے والے ایسے فیصلوں میں رضامندی کس حد تک آزادانہ ہوتی ہے۔
افغانستان میں معاشی بحران اور خوراک کی کمی نے بھی غریب خاندانوں پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے گزشتہ برسوں میں ملک میں بڑے پیمانے پر غذائی عدم تحفظ کی نشاندہی کی تھی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا شکار رہے۔
رپورٹس کے مطابق گردے کی قیمت وقت کے ساتھ کم بھی ہوئی ہے۔ ایک مرحلے پر گردے کے عوض تقریباً 3 ہزار سے 4 ہزار امریکی ڈالر تک ملنے کی اطلاعات تھیں، جبکہ بعد کے برسوں میں بعض افراد نے تقریباً 1500 ڈالر میں بھی گردہ فروخت کیا۔ رقم علاقے، خریدار اور دیگر حالات کے مطابق مختلف بتائی گئی ہے۔
ہرات میں گردوں کی پیوند کاری کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار بھی اس معاملے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ ایک صحت عامہ کے اہلکار کے مطابق صوبے کے ہسپتالوں میں گزشتہ برسوں کے دوران سیکڑوں ٹرانسپلانٹ کیے گئے، تاہم ان میں خاندان کے افراد کی جانب سے گردہ عطیہ کرنے کے واقعات محدود رہے۔
مقامی ڈاکٹروں کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گردہ فروخت کرنے والوں میں بے گھر کیمپوں اور انتہائی غریب آبادیوں میں رہنے والے افراد کی تعداد قابل ذکر ہے۔ بعض خریدار بھی ایسے ہی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں معاشی مجبوری کے شکار افراد فوری رقم حاصل کرنے کے لیے اپنے گردے فروخت کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند انسان ایک گردے کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے، لیکن کسی عضو کو مالی مجبوری کے تحت فروخت کرنا ایک انتہائی حساس طبی اور انسانی مسئلہ ہے۔ آپریشن کے خطرات، طویل مدتی صحت کے مسائل اور مناسب طبی نگرانی کی عدم موجودگی غریب افراد کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ہرات کی یہ کہانی صرف ایک بستی تک محدود نہیں سمجھی جاتی بلکہ افغانستان میں غربت، بے روزگاری، صحت کی سہولیات اور انسانی مجبوریوں سے جڑے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتی ہے۔ ’ون کڈنی ولیج‘ کی اصطلاح اسی تلخ حقیقت کی وجہ سے عالمی میڈیا میں نمایاں ہوئی کہ بعض خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے جسم کا ایک قیمتی عضو تک فروخت کرنے پر مجبور ہوئے۔



