بین الاقوامی خبریں

روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر 100 فیصد تک ٹیرف کا خطرہ، ٹرمپ نے قانون پر دستخط کردیئے

روسی تیل کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار امریکی صدر کو مل گیا۔

واشنگٹن، 19 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ایران سے متعلق نئے قانون پر دستخط کردیئے ہیں، جس کے بعد روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار امریکی صدر کو حاصل ہوگیا ہے۔ نئے قانون کے باعث روس سے بڑی مقدار میں خام تیل خریدنے والے ممالک کے لیے امریکی تجارتی پالیسی کا دباؤ بڑھ گیا ہے، تاہم بھارت پر ابھی 100 فیصد ٹیرف عائد نہیں کیا گیا۔

’لنڈسی او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘ کے تحت امریکی صدر روسی خام تیل یا گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندہ ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرسکتے ہیں۔ ٹیرف کی اصل شرح اور اس کا نفاذ امریکی انتظامیہ کے آئندہ فیصلے سے طے ہوگا۔

نئے قانون کے تحت ان ممالک کا تعین روس سے توانائی کی درآمد کے حجم کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ قانون میں بعض حالات میں ان ممالک کو رعایت دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے جو روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہوں۔

روس سے خام تیل خریدنے والے بڑے ممالک میں چین اور بھارت نمایاں ہیں، جبکہ بعض یورپی ممالک بھی روسی توانائی درآمد کرتے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد بھارت نے روسی خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا اور روس اس کی توانائی درآمدات کا اہم ذریعہ بن گیا ہے۔

دستیاب تجارتی اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے 2026 میں روس سے روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل درآمد کیا۔ روسی تیل کی خریداری بھارت کو عالمی توانائی مارکیٹ میں قیمت اور سپلائی کے لحاظ سے فائدہ دیتی رہی ہے، لیکن امریکی قانون کے بعد اس تجارت پر اضافی تجارتی دباؤ کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

اگر امریکی انتظامیہ بھارت پر بھی زیادہ شرح کا ٹیرف عائد کرتی ہے تو اس کا اثر دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر بھارت پر 100 فیصد ٹیرف کے نفاذ کو حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ قانون نے صدر کو اختیار دیا ہے اور حتمی شرح کا فیصلہ بعد میں کیا جانا ہے۔

قانون میں روس کے علاوہ ایران سے متعلق امریکی پابندیوں کو بھی مزید پانچ سال تک جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ واشنگٹن کا مقصد روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی پر دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کے خلاف اقتصادی اقدامات کو مزید سخت کرنا ہے۔

اس قانون کے بعد بھارت سمیت روسی تیل کے بڑے خریدار ممالک کو امریکی تجارتی پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنا ہوگی۔ آئندہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ٹیرف کی شرح اور ممکنہ استثنیٰ سے متعلق فیصلے ہی واضح کریں گے کہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر اس قانون کا عملی اثر کتنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button