لندن، 21جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) رواں سال فروری میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سر اٹھانے والے بحرانوں میں سے ایک توانائی کا بھی ہے جس سے یورپ خاص طور پر متأثر ہے کیونکہ وہ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ اسے قدرتی گیس روس سے لینا پڑتی ہے۔امریکہ اور یورپ نے جنگ شروع ہونے کے بعد نہ صرف روس پر پابندیاں عائد کیں، بلکہ یورپی یونین نے یوکرین کو رکنیت حاصل کرنے کے لیے امیدوار کا سٹیٹس بھی دیا، جس پر روس نے گیس پائپ لائن ’نارڈ ون‘، اور ’نارڈ ٹو‘ بند کرنے کی دھمکی بھی دی۔دوسری جانب یورپی یونین نے اپنے رکن ممالک کو ہدایت کی ہے کہ گیس کا استعمال کم کر دیا جائے۔
اس کے بعد یہ سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا یورپ روس کی گیس کے بغیر گزارا کر سکتا ہے؟خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یورپی ممالک روس کے صدر پوتن پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ توانائی کے ایشو کو جنگی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور یورپ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔روس پہلے ہی موسم سرما کے دوران یورپ کے لیے گیس کی فراہمی کم کر چکا ہے جبکہ روسی صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کو 60 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی یہ کمی کر دی گئی تو یورپ کو کارخانے چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
روس کی جانب سے یوکرین پر حملے سے بھی قبل گیس کی سپلائی کم کر دی گئی تھی کیونکہ روس قلیل مدتی سپاٹ مارکیٹ میں گیس فروخت نہیں کرتا تاہم حملے کے بعد پابندیوں کے جواب میں روس نے چھ یورپی ممالک کے لیے گیس بند کر دی تھی جبکہ باقیوں کو سپلائی کم کر دی تھی۔یعنی موسم سرما کے ا?غاز سے قبل روس نے 27 ممالک کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ موسم سرما میں گیس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔عام موسم میں یورپ کی کوشش ہوتی ہے کہ کم گیس استعمال کی جائے اور سردیوں کے لیے بچا کر رکھی جائے تاہم وہ اپنے گول 80 فیصد سے ابھی 15 فیصد نیچے ہے۔
روس یورپ کو جنگ سے قبل 40 فیصد گیس فراہم کرتا تھا جو کہ اب 15 فیصد تک آگئی ہے، جس سے صنعتیں متاثر ہوئیں اور لاگت بڑھنے سے اشیا کی قیمتیں بھی بڑھیں۔یہ روس سے یورپ کو جانے والی ایک اہم پائپ لائن ہے، یہ زیرسمندر جرمنی تک جاتی ہے اور اس کی زیادہ تر ضروریات کا دارومدار اسی گیس پر ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر نارڈ سٹریم کو بند کیا گیا تو یورپ کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔اسی طرح تین مزید پائپ لائنز بھی روس سے یورپ گیس پہنچاتی تھیں، جن میں سے ایک کو بند کر دیا گیا ہے جو پولینڈ اور بیلاروس کے راستے پہنچتی تھی۔
یوکرین اور سلواکیا کے راستے پہچنے والی گیس پائپ لائن ابھی کام کر رہی ہے تاہم جنگ کی وجہ سے سپلائی کم ہوئی ہے جبکہ ایک اور پائپ براستہ ترکی اور بلغاریہ پہنچتی ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ گیس کم ہونے کا مطلب ہے قیمتوں میں اضافہ ہونا، جس سے یقیناً صدر پوتن کو فائدہ ہو گا۔ حملے بعد سے روس کو گیس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ 95 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔صرف پانچ ماہ کے دوران اس کی آمدنی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے زیادہ تر خریدار یورپی ممالک ہیں۔



