بین الاقوامی خبریں

مراکش -اسرائیل کے درمیان شعبہ قانون میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا معاہدہ

مقبوضہ بیت المقدس ، 27 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مراکش اور اسرائیل کے درمیان قانون کے شعبے میں دوطرفہ روابط اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک معاہدہ طے پایا ہے۔اس معاہدے پر اسرائیلی وزیرانصاف گیڈیون سار کے دور ہ مراکش کے موقع پر دست خط کیے گئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں 2020 میں دوطرفہ تعلقات کو معمول پرلانے کے لیے امن معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے بعد دونوں ملکوں میں مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدے طے پاچکے ہیں۔

اسرائیلی وزیرانصاف نے اپنے مراکشی ہم منصب عبداللطیف وہبی کے ساتھ رباط میں عدالتی معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک منظم جرائم، دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں تعاون کریں گے،اس ضمن میں ڈیجیٹل نظام میں مہارت کا اشتراک کریں گے اوراپنے اپنے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔اس کے علاوہ منگل کے روز اسرائیل کے علاقائی تعاون کے وزیرعیساوی فریج نے رباط میں دونوں ممالک کے نوجوانوں کیثقافتی تبادلے کے پروگرام پربات چیت کی ہے۔ان کااپنا تعلق ایک اسرائیلی عرب خاندان سے ہے جس کی جڑیں مراکش میں پیوست ہیں۔

واضح رہے کہ مراکش نے سنہ2000میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں دوسرے انتفاضہ تحریک کے بعد اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیے تھے لیکن دو دہائیوں کے بعد ابراہیم معاہدے کے تحت دوبارہ تعلقات قائم کیے ہیں۔اس معاہدے میں واشنگٹن نے متنازع مغربی صحارا پرمراکش کی خودمختاری کو تسلیم کیا ہے۔اس کے بعد سے مراکش اوراسرائیلی حکام نے ایک دوسرے کے ممالک کے متعدد دورے کیے ہیں اور دفاع اور سلامتی سے لے کر معیشت، ثقافت اور کھیلوں تک کے معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔اسرائیلی فوج کے سربراہ ابیب (افیف)کوہوی نے گذشتہ ہفتے مراکش کا دورہ کیا تھا۔اس کا مقصد اسرائیل اور شمالی افریقہ میں واقع عرب اسلامی ملک کے درمیان تزویراتی تعلقات اور فوجی اتحاد کومستحکم بنانا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button