
’ہم 5 سیٹیں جیتے، بی جے پی 50 اضلاع میں ہاری‘، اکھلیش یادو کا طنز، یو سی سی پر امیت شاہ کو جواب
اکھلیش یادو کا یو سی سی پر امیت شاہ کو جواب
لکھنؤ، 30 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اتر پردیش میں ایم ایل سی انتخابات کے نتائج کے بعد سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نے پانچ نشستیں جیتی ہیں، جبکہ بی جے پی 50 اضلاع میں ہاری ہے۔ انہوں نے وارانسی میں کامیابی کو عوام کی جانب سے ڈبل انجن حکومت کو ڈبل زیرو دینے کے مترادف قرار دیا۔
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ گورکھپور میں بھی انتخابی عمل کے دوران دباؤ ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے امیدواروں نے جمہوریت کے تحفظ کے لیے مقابلہ کیا ہے اور پارٹی پی ڈی اے کی طاقت مزید مضبوط کرے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بی جے پی نے چھ نشستیں بے ضابطگیوں کے ذریعے حاصل کی ہیں۔
سوامی پرساد موریہ کی انڈیا اتحاد کی تحریک میں شرکت سے متعلق سوال پر اکھلیش یادو نے کہا کہ وہ سماجوادی پارٹی کے اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے اور نشستوں کی تقسیم کا حصہ بھی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر بھرتیوں میں بے ضابطگیوں اور پی ڈی اے کے ریزرویشن حقوق متاثر کرنے کے الزامات بھی لگائے۔
احتجاجی دھرنوں اور بے روزگاری کے معاملے پر انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خود بے روزگار ہونے جا رہی ہے۔ ایم ایل سی انتخابات میں خواتین اساتذہ کے بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی بڑی کامیابی کی امید ظاہر کی۔
یکساں سول کوڈ (UCC) سے متعلق امیت شاہ کے بیان پر اکھلیش یادو نے کہا، ’’بڑی دیر کر دی حضور آتے آتے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا اعلان ہوتے ہی عوام بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے میدان میں اتر آئیں گے۔ امیت شاہ کے انتخابی شکست کے بعد امپائر پر الزام لگانے والے بیان پر بھی انہوں نے کہا کہ ہار اور جیت کا فیصلہ تقریروں سے نہیں بلکہ عوام کرتے ہیں۔
ووٹرس لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی 2022 سے یہ مسئلہ اٹھا رہی ہے اور 18 ہزار ثبوت پیش کر چکی ہے۔ انہوں نے ووٹر لسٹ کو شفاف بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بایومیٹرک نظام استعمال کرنے کی تجویز بھی دی۔



