بین ریاستی خبریں

تمل ناڈو میں بڑا ریلوے حادثہ ٹلا، بغیر انجن کے 6 کلومیٹر تک دوڑیں 7 بوگیاں

بغیر انجن کے چھ کلومیٹر تک دوڑتی رہیں سات ریلوے بوگیاں

جولارپیٹائی، 2 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) تمل ناڈو میں ریلوے کی سنگین لاپروائی کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں جولارپیٹائی ریلوے جنکشن کے یارڈ سے سات خالی بوگیاں بغیر انجن کے خودبخود چل پڑیں اور تقریباً 6 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد پٹری سے اتر گئیں۔ واقعے کے باعث بنگلورو اور چنئی کے درمیان ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، تاہم ریلوے حکام کی فوری کارروائی سے ایک بڑے حادثے کو ٹال دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ تمل ناڈو کے ضلع تروپتور میں واقع جولارپیٹائی ریلوے جنکشن کے قریب پیش آیا۔ ساتوں خالی بوگیاں ریلوے کے کوچ مینٹیننس یارڈ میں مرمت سے متعلق کام کے لیے کھڑی کی گئی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک انجن کی مدد سے ان بوگیوں کو دھکیلا گیا تھا، لیکن مبینہ طور پر انہیں مناسب طریقے سے محفوظ نہیں کیا گیا، جس کے بعد وہ خودبخود حرکت کرنے لگیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے ساتوں بوگیاں ریلوے یارڈ کی حدود سے باہر نکل گئیں اور تقریباً چھ کلومیٹر تک چلتی رہیں۔ آخرکار تھاملیری متھور کے قریب بنگلورو-جولارپیٹائی مرکزی ریلوے لائن پر پٹری سے اتر گئیں۔

واقعے کے دوران ڈیوٹی پر موجود ریلوے گیٹ کیپر نے بوگیوں کے پٹری سے اترنے کی غیر معمولی آواز سنی اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی۔ اس اطلاع کے بعد ریلوے حکام نے بنگلورو کی سمت سے جولارپیٹائی آنے والی ٹرینوں کو مختلف مقامات پر روکنے کی ہدایات جاری کیں، تاکہ کسی دوسری ٹرین کے ان بوگیوں سے ٹکرانے کا خطرہ پیدا نہ ہو۔

اطلاع ملتے ہی ریلوے عملہ جائے وقوع پر پہنچ گیا اور پٹری سے اتری بوگیوں کو ہٹانے کا کام شروع کیا۔ اس کارروائی کے دوران گیس کٹنگ مشینوں کی مدد سے بوگیوں کے درمیانی جوڑ الگ کیے گئے، جبکہ انہیں ریلوے ٹریک سے ہٹانے کے لیے جے سی بی مشینوں کا استعمال کیا گیا۔

اس واقعے کے باعث بنگلورو اور چنئی کے درمیان چلنے والی متعدد ٹرینوں کی خدمات متاثر ہوئیں اور مسافروں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ریلوے حکام نے متاثرہ پٹری کو صاف کرنے اور ٹرینوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے کارروائی کی۔

جولارپیٹائی ریلوے جنکشن تمل ناڈو کا ایک اہم ریلوے مرکز ہے، جہاں 16 ریلوے ٹریک موجود ہیں۔ اسے ایشیا کے بڑے ریلوے یارڈز میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button