سرورققومی خبریں

علاؤالدین کے ’ہاف انکاؤنٹر‘ پر ہائی کورٹ کے سنگین سوال، CBI کرے گی SHO کی نشانہ بازی کی جانچ

23 پولیس اہلکار موجود تھے تو کوئی زخمی کیوں نہیں ہوا؟اندھیرے میں 15 میٹر دور سے ایسا نشانہ کیسے لگا کہ دونوں گولیاں ٹانگوں میں پیوست ہوئیں؟

لکھنؤ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے شراوستی میں پولیس کے مبینہ ’انکاؤنٹر‘ پر الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے کئی اہم سوالات اٹھاتے ہوئے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے خاص طور پر اس وقت کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) اشونی کمار دوبے کی شوٹنگ اور نشانہ بازی کی صلاحیت جانچنے کی ہدایت دی ہے۔ سی بی آئی کو اپنی تحقیقات تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کو کہا گیا ہے۔

یہ معاملہ 9 مئی 2025 کو شروع ہوا، جب شراوستی کے اکونا تھانہ علاقے میں ایک سات سالہ بچی کے اغوا کے الزام میں شفیق اور دو نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ شکایت کنندہ نے شفیق کو مبینہ طور پر موقع سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ تین دن بعد، 12 مئی کو SHO اشونی کمار دوبے نے علاؤالدین کے خلاف الگ ایف آئی آر درج کی اور پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ نیپال فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق 13 اہلکار ایک سرکاری گاڑی میں علاؤالدین کی تلاش میں نکلے تھے، جبکہ بعد میں 10 رکنی سوات ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی، جس سے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 23 ہوگئی۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ علاؤالدین ای رکشا سے فرار ہو رہا تھا، رکشا ایک درخت سے ٹکرا گیا اور اس نے پولیس کو دیکھ کر مبینہ طور پر دیسی ساختہ پستول نکال کر ہتھیار لوڈ کیا۔ پولیس کے مطابق اس نے اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔

پولیس کی کہانی کے مطابق SHO نے تقریباً 15 میٹر کے فاصلے سے 9 ایم ایم سروس پستول سے دو گولیاں چلائیں اور دونوں علاؤالدین کی ٹانگوں میں لگیں۔ SHO کا کہنا تھا کہ انہوں نے رات کے وقت ہتھیار لوڈ کیے جانے کی آواز سننے کے بعد فائرنگ کی۔ عدالت نے اسی دعوے پر سوال اٹھایا کہ رات کے وقت صرف ہتھیار لوڈ ہونے کی آواز سن کر تقریباً 15 میٹر کے فاصلے سے اتنی درستگی کے ساتھ فائرنگ کیسے کی گئی کہ دونوں گولیاں ٹانگوں میں لگیں۔ اسی بنیاد پر سی بی آئی کو SHO کی شوٹنگ کی صلاحیت کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

عدالت نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر 23 پولیس اہلکاروں نے ایک ایسے شخص کو گھیر رکھا تھا جس کے پاس مبینہ طور پر صرف دیسی ساختہ پستول اور دو کارتوس تھے تو پولیس کو اتنی مشکل کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ ایف آئی آر میں 13 پولیس اہلکاروں کے ایک ہی سرکاری گاڑی میں سفر کرنے کا ذکر تھا۔ عدالت نے سوال کیا کہ ایک عام پولیس جیپ یا ایس یو وی میں 13 اہلکار کیسے بیٹھ سکتے ہیں اور اتنی بڑی ٹیم کی موقع پر موجودگی کو کس طرح سمجھا جائے۔

فائرنگ کے دعوے کے ساتھ میڈیکل شواہد پر بھی عدالت نے سوال اٹھایا۔ SHO نے گولی کے سائز اور ملزم کے زخم کے درمیان فرق کی وضاحت پیش کی، لیکن عدالت اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ پولیس کی جانب سے واقعے کی بیان کردہ تفصیل اور دستیاب طبی شواہد میں مطابقت کی جانچ ضروری ہے۔

معاملے میں مبینہ اعترافِ جرم بھی اہم سوال بن گیا۔ پولیس کے مطابق گولی لگنے کے بعد علاؤالدین نے سات سالہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور واقعے کی تفصیلات کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم عدالت نے نشاندہی کی کہ اغوا کے فوراً بعد درج کی گئی اصل ایف آئی آر میں عصمت دری، خون بہنے یا بچی کے زخمی ہونے جیسی تفصیلات موجود نہیں تھیں، جبکہ یہ باتیں بعد میں مبینہ اعتراف میں سامنے آئیں۔ عدالت نے ابتدائی طور پر مبینہ اعتراف کی صداقت پر بھی سوال اٹھایا۔

علاؤالدین کا سابقہ مقدمہ بھی عدالت کے سامنے زیر بحث آیا۔ اسے 2012 کے ایک کم عمر بچی کے قتل اور عصمت دری کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے 2022 میں اسے بری کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اس پس منظر میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پولیس کی ناراضی کا موجودہ معاملے سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مبینہ انکاؤنٹر میں شامل تمام 23 پولیس اہلکاروں کو ان کی کارروائی کے لیے انعام دیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ نے مجموعی طور پر پولیس کے بیان میں موجود تضادات کو سنجیدہ قرار دیا اور ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں واقعے کی غلط یا گمراہ کن تصویر پیش کیے جانے کے خدشے کا اظہار کیا۔ عدالت نے پولیس انکاؤنٹر کی تحقیقات سے متعلق سپریم کورٹ کے مقرر کردہ رہنما اصولوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے معاملات میں مقررہ طریقہ کار کی پابندی ضروری ہے۔

اب سی بی آئی ایف آئی آر میں درج پولیس کے دعووں، جائے وقوعہ کے حالات، پولیس اہلکاروں کی تعداد اور نقل و حرکت، استعمال ہونے والی گاڑی، ہتھیار، فائرنگ کے فاصلے، میڈیکل شواہد، مبینہ اعترافِ جرم اور SHO کی نشانہ بازی سمیت اہم پہلوؤں کی آزادانہ جانچ کرے گی۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو تین ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ کے 2 جولائی 2026 کے حکم پر بھی روک لگائی گئی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 23 نومبر 2026 کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button