بین ریاستی خبریں

POCSO کیس میں ڈاکٹر بری، الہ آباد ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا منسوخ کر دی

جائیداد کے تنازع، ایف آئی آر میں تاخیر اور نابالغ کے بیان پر عدالت نے اٹھائے اہم سوالات

وارانسی، 17 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیز): الہ آباد ہائی کورٹ نے POCSO ایکٹ کے مقدمے میں سزا یافتہ سینئر کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اور ان کے بھائی کو قانونی راحت دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے وارانسی کی خصوصی POCSO عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا منسوخ کرتے ہوئے جیل میں موجود دونوں افراد کی رہائی کا حکم دیا۔ مقدمے میں ڈاکٹر پر اپنی نابالغ بیٹی سے عصمت دری کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے دستیاب شواہد اور مقدمے کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد استغاثہ کے کیس کو قابلِ اعتماد نہیں پایا۔

جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس جے کرشنا اپادھیائے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران مقدمے کے پس منظر، ایف آئی آر درج ہونے میں تاخیر، نابالغ کے بیان اور خاندانی تنازع سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ ڈاکٹر اور اس کی اہلیہ کے درمیان اسپتال کی تعمیر اور جائیداد سے متعلق اختلافات چل رہے تھے، جس کے بعد 2018 میں ڈاکٹر اور اس کے بھائی کے خلاف وارانسی میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔

ہائی کورٹ نے ایف آئی آر درج کرنے میں تقریباً دو ماہ کی تاخیر کو بھی اہم نکتہ قرار دیا۔ شکایت کنندہ کی جانب سے تاخیر کی وجہ خاندان کی عزت اور سماجی ساکھ کو بچانا بتائی گئی تھی، تاہم عدالت نے مقدمے کے مجموعی حالات میں اس وضاحت کو تسلی بخش نہیں پایا۔ عدالت نے کہا کہ کسی سنگین جرم کے الزام میں شکایت درج کرنے میں تاخیر کی وجوہات کا جائزہ مقدمے کے دیگر شواہد کے ساتھ کیا جانا ضروری ہے۔

سماعت کے دوران نابالغ کے بیان پر بھی عدالت نے خاص توجہ دی۔ بنچ نے مشاہدہ کیا کہ بچوں کے بیانات اہم ہوتے ہیں، لیکن ایسے معاملات میں جہاں والدین کے درمیان شدید اختلاف یا خاندانی کشیدگی موجود ہو، بچے کی گواہی کو دیگر دستیاب شواہد کے ساتھ جانچنا ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق اگر والدین کے باہمی تنازع میں بچے کو کسی ایک فریق کے خلاف استعمال کیے جانے کا امکان ہو تو اس کے بیان کی قانونی حیثیت اور قابلِ اعتماد ہونے کا مزید محتاط جائزہ لیا جانا چاہیے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ POCSO ایکٹ بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ایک اہم قانون ہے، تاہم کسی بھی مقدمے میں سزا صرف ایسے شواہد کی بنیاد پر نہیں دی جا سکتی جن کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سنجیدہ سوالات موجود ہوں۔ عدالت نے مقدمے کے تمام حالات کو یکجا کرکے دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ استغاثہ الزام کو مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق ثابت کرنے میں کامیاب نہیں رہا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وارانسی کی خصوصی POCSO عدالت کا عمر قید کا فیصلہ برقرار نہیں رہا۔ عدالت نے ڈاکٹر اور اس کے بھائی کو بری کرتے ہوئے جیل میں موجود افراد کی رہائی کا حکم دیا۔ اس مقدمے میں عدالت کے مشاہدات نے ایک بار پھر اس قانونی اصول کو نمایاں کیا ہے کہ بچوں سے متعلق حساس مقدمات میں ایک طرف متاثرہ بچے کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے تو دوسری طرف ملزم کے خلاف الزام ثابت کرنے کے لیے شواہد کی غیر جانب دارانہ اور مکمل جانچ بھی لازمی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے مقدمات میں عدالتی جانچ کے اس پہلو کو بھی سامنے لاتا ہے کہ خاندانی یا جائیداد کے تنازع سے جڑے جنسی جرائم کے الزامات کی سماعت کرتے وقت عدالتیں مقدمے کے تمام حالات، گواہی اور دیگر شواہد کو الگ الگ نہیں بلکہ مجموعی تناظر میں دیکھتی ہیں۔ عدالت نے اسی بنیاد پر خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو منسوخ کرتے ہوئے ملزمان کو بری کر دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button