بین ریاستی خبریں

مذہبی مقامات سے مائیک اور لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا حکم، معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ پہنچا

حکومتی فیصلے کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی دائر، مذہبی مقامات سے صوتی آلات ہٹانے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیا گیا

کولکاتا، 10 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):مغربی بنگال میں مذہبی مقامات سے مائیکروفون اور لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے حکومتی حکم نے اب قانونی رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے پیر کو کلکتہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کی گئی، جس میں ریاستی حکومت سے اس حکم کو واپس لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست میں خاص طور پر مساجد سے مائیکروفون اور لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی کارروائی کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

یہ مفاد عامہ کی عرضی ترنمول کانگریس کے سابق لوک سبھا رکن اور سینئر وکیل کلیان بنرجی نے وکیل دانش فاروقی کی جانب سے دائر کی ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ مذہبی مقامات سے صوتی آلات ہٹانے کے لیے حکومت کی جانب سے جاری حکم کی قانونی حیثیت واضح ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں اختیار کیے گئے طریقہ کار کی بھی جانچ ضروری ہے۔

سینئر وکیل کلیان بنرجی نے الزام عائد کیا کہ مساجد سے مائیکروفون اور لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی کارروائی پولیس نے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کے مبینہ زبانی حکم کی بنیاد پر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی فیصلے پر انتظامی عمل درآمد کیا جا رہا ہے تو اس کے لیے باقاعدہ سرکاری حکم یا تحریری ہدایت موجود ہونی چاہیے۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس تپابرتا چکرورتی کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے عرضی کو سماعت کے لیے قبول کر لیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی پہلی باقاعدہ سماعت کب ہوگی، اس کی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی ہے۔

اسی معاملے کو لے کر پیر کے روز کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک دوسری درخواست بھی دائر کی گئی۔ جسٹس سوگتا بھٹاچاریہ کی سنگل بنچ میں داخل کی گئی اس درخواست میں منگل کو کولکاتا میں احتجاجی ریلی نکالنے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ درخواست گزار عبدالسماد نے راجابازار سے وسطی کولکاتا کی رانی راسمنی روڈ تک ریلی نکالنے کی اجازت مانگی ہے۔

عبدالصمد کی جانب سے یہ درخواست وکیل اور سی پی آئی (ایم) رہنما سبیاساچی چٹوپادھیائے نے دائر کی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سنگل بنچ اس درخواست پر پیر کو ہی غور کر سکتی ہے۔

اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ مائیکروفون اور لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی کارروائی میں مساجد کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صرف مساجد تک محدود نہیں ہے بلکہ مندروں سمیت تمام مذہبی مقامات پر یکساں طور پر لاگو کیا جا رہا ہے۔

اب کلکتہ ہائی کورٹ میں دائر مفاد عامہ کی عرضی کے بعد اس معاملے کی قانونی حیثیت اور مذہبی مقامات پر مائیکروفون و لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق حکومتی فیصلے پر عدالت کا موقف اہم ہوگا-

متعلقہ خبریں

Back to top button