
افضل انصاری کو تین مقدمات میں گرفتاری سے راحت، الہ آباد ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا
ریاستی حکومت کو دو ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت۔
پریاگ راج، 10 اگست 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) غازی پور سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کو اسلحہ لائسنس سے متعلق تین مقدمات میں الہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے تینوں مقدمات میں ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے، تاہم ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست پر فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا۔
افضل انصاری نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے غازی پور کوتوالی میں درج تینوں ایف آئی آر کو منسوخ کرنے اور پولیس کی جانب سے کسی بھی ہراساں کرنے والی کارروائی پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔
پیر کو جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس جے کے اپادھیائے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو دو ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی، جبکہ درخواست گزار کے وکیل کو اس کے بعد ایک ہفتے میں اپنا جواب داخل کرنے کا وقت دیا گیا۔ عدالت نے کیس کو تین ہفتے بعد دوبارہ سماعت کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
افضل انصاری کے خلاف غازی پور کوتوالی تھانے میں تین الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ یہ مقدمات کرائم نمبر 535، 551 اور 554 کے تحت درج ہیں۔ پولیس کے مطابق مقدمات میں تعزیرات ہند (IPC) کی دفعات 409، 120-B اور 419 کے ساتھ آرمز ایکٹ کی دفعات 21، 25 اور 30 لگائی گئی ہیں۔
پہلی ایف آئی آر 22 جولائی 2026 کو درج کی گئی تھی، جبکہ دو دیگر مقدمات بعد میں درج ہوئے۔ تینوں ایف آئی آر افضل انصاری سے متعلق الگ الگ اسلحہ لائسنسوں کی فائلوں کے مبینہ طور پر غائب ہونے سے متعلق ہیں۔
1983 اور 1987 کی لائسنس فائلوں کا معاملہ
سماعت کے دوران افضل انصاری کے وکیل اوپیندر اپادھیائے نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جن لائسنس فائلوں کے حوالے سے مقدمات درج کیے گئے ہیں، وہ 1983 اور 1987 کی ہیں، جبکہ موجودہ ایف آئی آر تقریباً چار دہائیوں بعد 2026 میں درج کی گئی ہیں۔
وکیل نے دلیل دی کہ متعلقہ اسلحہ لائسنس کی فائلیں ضلع مجسٹریٹ کے دفتر سے غائب ہوئی ہیں اور ان فائلوں کے غائب ہونے میں افضل انصاری کا کوئی کردار ثابت نہیں ہوتا۔
ہائی کورٹ نے فی الحال صرف افضل انصاری کی گرفتاری پر عبوری روک لگائی ہے۔ عدالت نے ابھی تک تینوں ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ اس معاملے میں قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ عدالت اگلی سماعت میں ریاستی حکومت کا جواب موصول ہونے کے بعد معاملے پر مزید غور کرے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔



