جرائم و حادثاتسرورق

ائے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔شبنم اورسلیم کی محبت کی خونی داستاں

امروہہ قتلِ عام: شبنم اور سلیم نے خاندان کے 7 افراد کو قتل کیا، سزائے موت برقرار

ممبئی/امروہہ: (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں)اتر پردیش کے ضلع امروہہ کے بابن کھیڑی (باون کھیڑی) گاؤں میں 14 اپریل 2008 کی شب پیش آنے والا سات افراد کے قتل کا ہولناک واقعہ ملک کے سفاک ترین خاندانی قتل عام میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مقدمے میں مرکزی ملزمہ شبنم اور اس کے عاشق سلیم کو ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت سنائی جاچکی ہے، جبکہ ان کی رحم کی درخواستیں بھی مسترد ہوچکی ہیں۔ یہ مقدمہ ایک بار پھر اس وقت موضوعِ بحث بنا جب اس کی قانونی کارروائی اور سزائے موت سے متعلق پیش رفت سامنے آئی۔

پولیس اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق، شبنم نے اپنے عاشق سلیم کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر اپنے ہی خاندان کے سات افراد کو قتل کیا تھا۔ مقتولین میں اس کے والد شوکت علی، والدہ ہاشمی، دو بھائی انیس اور راشد، بھابھی انجم، بہن رابعہ اور صرف 10 ماہ کا بھتیجا عرش شامل تھے۔

محبت، مخالفت اور قتل کی سازش

تفتیش کے مطابق شبنم اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی اور ایم اے تک تعلیم حاصل کرچکی تھی، جبکہ سلیم لکڑی کاٹنے کی آری مشین پر مزدوری کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے، تاہم مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے شبنم کے اہل خانہ نے اس رشتے کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

پولیس کے مطابق اہل خانہ کی مخالفت کے بعد دونوں نے مبینہ طور پر پورے خاندان کو راستے سے ہٹانے کی سازش تیار کی۔ الزام ہے کہ قتل کی رات گھر کے افراد کو پہلے خواب آور گولیاں دی گئیں تاکہ وہ گہری نیند میں چلے جائیں، جس کے بعد گلا گھونٹنے اور کلہاڑی سے حملہ کرکے ایک ایک کرکے تمام افراد کو قتل کردیا گیا۔

10 ماہ کا معصوم بھی نہ بچ سکا

اس قتل عام کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ ملزمان نے صرف بڑوں کو ہی نہیں بلکہ 10 ماہ کے معصوم بچے عرش کو بھی قتل کردیا۔ واقعے کی رات شبنم کی شادی شدہ بہن رابعہ بھی اپنے والدین سے ملنے گھر آئی ہوئی تھیں اور وہ بھی اس خونریز واردات کا نشانہ بن گئیں۔

پولیس تفتیش اور گرفتاری

قتل کے چند روز بعد 19 اپریل 2008 کو حسن پور پولیس نے سلیم کو گرفتار کیا۔ پولیس نے اس کی نشاندہی پر ایک تالاب سے قتل میں استعمال ہونے والی کلہاڑی اور خون آلود کپڑے برآمد کیے۔ بعد ازاں شبنم کو بھی گرفتار کرلیا گیا اور دونوں کو عدالتی کارروائی کے بعد جیل بھیج دیا گیا۔

عدالتوں نے سزائے موت برقرار رکھی

امروہہ کی ٹرائل کورٹ نے 15 جولائی 2010 کو شبنم اور سلیم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

بعد میں شبنم نے مختلف قانونی ذرائع سے رحم کی اپیلیں دائر کیں، تاہم ریاستی گورنر اور صدرِ جمہوریہ کی سطح پر بھی یہ اپیلیں مسترد کردی گئیں۔

جیل میں بچے کی پیدائش

مقدمے کی تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ شبنم گرفتار ہونے کے وقت حاملہ تھی۔ اس نے 13 دسمبر 2008 کو مراد آباد جیل میں ایک بیٹے کو جنم دیا، جس کا نام تاج رکھا گیا۔

بچہ تقریباً چھ برس تک اپنی والدہ کے ساتھ جیل میں رہا۔ بعد ازاں چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے اسے شبنم کے سابق کالج دوست عثمان سیفی کے حوالے کردیا۔ رپورٹوں کے مطابق شبنم نے بچے کی حوالگی کے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ اسے کبھی بابن کھیڑی نہ لے جایا جائے اور اس کا نام بھی تبدیل کردیا جائے تاکہ مستقبل میں اس کی شناخت محفوظ رہے۔

متھرا جیل میں پھانسی کی تیاریوں کی خبریں

ماضی میں مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر شبنم کی سزائے موت پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اسے متھرا کی خواتین جیل میں پھانسی دی جائے گی، جہاں خواتین کے لیے برسوں پہلے پھانسی گھر تعمیر کیا گیا تھا۔ ان رپورٹس میں پھانسی گھر کی مرمت اور انتظامی تیاریوں کا بھی ذکر کیا گیا تھا، تاہم سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی۔

گاؤں میں آج بھی تقسیم شدہ رائے

بابن کھیڑی گاؤں میں اس واقعے کو برسوں گزر جانے کے باوجود آج بھی اس کا ذکر ہوتا ہے۔ مقتولین کے اہل خانہ اور بعض دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اتنے سفاک جرم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے، جبکہ بعض افراد انسانی بنیادوں پر رحم کی اپیلوں کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔

amroha shabnam family murder case death sentence1
شبنم رام پور جیل سے بریلی جیل منتقل

متعلقہ خبریں

Back to top button