بین الاقوامی خبریں

افغان خاتون پولیس کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا طالبان پر الزام

کابل ،7ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)طالبان پر الزام ہے کہ انہوں نے صوبے غور میں ایک افغان خاتون پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے، جبکہ وہ ماں بننے والی تھیں۔صوبہ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ میں اس خاتون کو اس کے گھر میں اس کے عزیزوں کے سامنے گولی ماری گئی۔ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پولیس افسر ماں بننے والی تھیں۔

حسن حکیمی نے جو سول سوسائٹی کے ایک سرگرم کارکن ہیں اور بیرونِ ملک مقیم ہیں، جرمنی کی خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ نگار کو اس کے شوہر اور بیٹے کے سامنے ہلاک کیا گیا۔حکیمی کا کہناکہ ہم ان خواتین کے لئے فکر مند ہیں جو پولیس کے لئے کام کرتی تھیں، سیف ہاؤس میں اور خواتین کے ڈائریکٹوریٹ میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان انہیں کئی مرتبہ خبردار کر چکے ہیں۔

طالبان نے اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کی چھان بین کر رہے ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس واقعے سے آگاہ ہیں اور میں تصدیق کرتا ہوں کہ طالبان نے اسے نہیں مارا، ہماری چھان بین جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے پہلی حکومت میں کام کرنے والوں کے لئے عام معافی کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نگار کا قتل کسی ذاتی دشمنی یا کسی اور وجہ سے ہوا ہے۔

اس واقعے کی تفصیلات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ تاہم، بی بی سی کے مطابق تین ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان نے ہفتے کے روز نگار کو مارا پیٹا اور شوہر اور بچوں کے سامنے گولی ماردی۔گزشتہ ماہ کابل پر قبضے کے بعد طالبان لیڈر کہہ چکے ہیں کہ وہ اسلامی قانون کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button