سرورققومی خبریں

آسارام کو اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں، ایمس نے ریپ کیس میں سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کر دی

سپریم کورٹ 6 اگست کو آسارام کی طبی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرے گا،

نئی دہلی، 4 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) سپریم کورٹ 6 اگست کو جودھ پور کے نابالغ طالبہ سے زیادتی کیس میں سزا یافتہ آسارام باپو کی عبوری طبی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ اس سے قبل آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نے اپنی تفصیلی طبی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آسارام کو فی الحال اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم انہیں مسلسل 24 گھنٹے طبی نگرانی درکار ہے۔

جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے ایمس کی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے رپورٹ کے بعض نکات پر سوالات اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی کہ ایک جانب اسپتال میں داخلے کی ضرورت سے انکار کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب مسلسل طبی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے۔ انہی نکات پر مزید غور کے لیے کیس کی سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

اس سے قبل 21 جولائی کو سپریم کورٹ نے ایمس کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی تھی کہ وہ ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تشکیل دے کر آسارام کا جامع طبی معائنہ کرائیں تاکہ عدالت کو ان کی صحت کی حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ آیا انہیں طبی بنیادوں پر عبوری ریلیف دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

آسارام باپو نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ متعدد سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں اندرونی خون بہنے کی شکایت بھی شامل ہے، اور انہیں خصوصی طبی سہولیات کی ضرورت ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے سزا کے خلاف زیر التوا اپیل کے دوران عبوری طبی ضمانت دینے کی استدعا کی ہے۔

دوسری جانب راجستھان حکومت نے اس درخواست کی سخت مخالفت کی۔ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ چند ماہ قبل طبی ریلیف کے دوران آسارام نے کاشی وشوناتھ اور ایودھیا کا سفر بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صحت کی حالت واقعی تشویشناک تھی تو اتنا طویل سفر ممکن کیسے ہوا؟ حکومت نے عدالت سے کہا کہ طبی دعوؤں کا جائزہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

یہ مقدمہ 2013 میں جودھ پور کے آسارام آشرم میں ایک نابالغ طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی، غیر قانونی حراست اور دھمکانے کے الزامات سے متعلق ہے۔ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے بعد آسارام کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تھی، جبکہ راجستھان ہائی کورٹ نے مئی 2026 میں اس سزا کو برقرار رکھا۔

آسارام نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، جہاں ان کی اپیل ابھی زیر سماعت ہے۔ اب 6 اگست کو ہونے والی سماعت میں عدالت ایمس کی طبی رپورٹ، فریقین کے دلائل اور عبوری طبی ضمانت کی درخواست پر مزید غور کرے گی۔ اس اہم سماعت پر تمام متعلقہ فریقین اور عوام کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button