
اشوک گہلوت کو تلنگانہ میں کانگریس کا نیا انچارج بنانے پر غور، کئی سینئر رہنماؤں کے نام زیرِ بحث
تلنگانہ کانگریس انچارج بن سکتے ہیں اشوک گہلوت
نئی دہلی، 14 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): کانگریس ہائی کمان تلنگانہ میں پارٹی امور کی نگرانی کے لیے نئے انچارج کی تقرری پر غور کر رہی ہے۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اس عہدے کے لیے اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ تلنگانہ کانگریس انچارج ایس میناکشی نٹراجن ممکنہ طور پر تقریباً 10 ماہ کی رخصت پر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے جائیں گی، جس کے باعث پارٹی کو ریاست کے لیے نئے انچارج کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
کانگریس قیادت کی جانب سے اس عہدے کے لیے صرف اشوک گہلوت ہی نہیں بلکہ دیگر سینئر رہنماؤں کے ناموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان میں مکول واسنک اور شکتی سنگھ گوہل بھی شامل ہیں۔
میناکشی نٹراجن کو 14 فروری 2025 کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کی جانب سے تلنگانہ امور کا انچارج مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس عہدے پر دیپا داس منشی کی جگہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔
تلنگانہ کی ذمہ داری ملنے سے قبل بھی میناکشی نٹراجن ریاست میں کانگریس کی سیاسی حکمت عملی سے وابستہ رہی تھیں۔ وہ 2023 کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس کی جانب سے AICC مبصر کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں۔
میناکشی نٹراجن قومی سطح پر کانگریس قیادت کے ساتھ طویل عرصے سے وابستہ رہی ہیں اور انہیں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے قریبی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان کا انتخابی ریکارڈ بھی اہم رہا ہے۔ کانگریس نے انہیں 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں مدھیہ پردیش کے مندسور حلقے سے امیدوار بنایا تھا، جہاں انہوں نے کامیابی حاصل کی تھی۔
میناکشی نٹراجن نے اس انتخاب میں اپنے قریبی حریف کو 30 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔
اگر میناکشی نٹراجن بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے طویل رخصت پر جاتی ہیں تو تلنگانہ کانگریس کی تنظیمی ذمہ داری کسی سینئر رہنما کو سونپی جا سکتی ہے۔ اشوک گہلوت کا نام اس حوالے سے نمایاں طور پر سامنے آیا ہے، تاہم پارٹی کی جانب سے ابھی تک حتمی فیصلہ یا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
کانگریس ہائی کمان کی جانب سے حتمی نام طے کیے جانے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ تلنگانہ میں پارٹی کی تنظیمی ذمہ داری کس سینئر رہنما کو سونپی جاتی ہے۔



