
18 ماہ کی شادی، چار ماہ کا بچہ؛ سعودی عرب جاتے ہوئے تلنگانہ کا نوجوان شمش آباد حادثے میں ہلاک
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سعودی عرب میں مقیم ضلع کریم نگر کے 29 سالہ نوجوان محمد عظیم الدین خِضْر پیر کی صبح شمش آباد میں پیش آنے والے سڑک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ خِضْر کی شادی تقریباً 18 ماہ قبل ہوئی تھی اور حال ہی میں ان کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تھی۔ وہ اپنے چار ماہ کے نومولود بچے سے ملاقات کے لیے چند روز قبل کریم نگر پہنچے تھے۔ اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد سعودی عرب واپسی کے لیے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (آر جی آئی اے) کی جانب روانگی کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔
محمد عظیم الدین کے ہمراہ ان کے والد، چچا، اہلیہ اور شیر خوار بچہ بھی موجود تھے۔ ایئرپورٹ کے راستے میں اہل خانہ نے چائے کے لیے سڑک کنارے ایک ہوٹل کے قریب گاڑی روکی۔
محمد عظیم الدین چائے کے لیے گاڑی سے باہر آئے، جبکہ دیگر اہل خانہ گاڑی کے اندر موجود رہے۔ اسی دوران ایک کنٹینر ٹرک سڑک کے ڈیوائیڈر پر نصب بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گیا۔
اطلاعات کے مطابق کنٹینر ٹرک کے حادثے کے بعد سامنے سے آنے والی ایک بس بے قابو ہوگئی اور سڑک کنارے موجود گاڑیوں سے ٹکرا گئی۔ ان گاڑیوں میں محمد عظیم الدین کی ایرٹیگا بھی شامل تھی۔
بس کی زد میں آنے سے محمد عظیم الدین شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ حادثہ سڑک کنارے واقع ہوٹل اور اس سے متصل پان کی دکان کے قریب پیش آیا۔
حادثے میں بس ڈرائیور سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
محمد عظیم الدین گزشتہ ڈھائی برس سے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں ملازمت کر رہے تھے۔ حال ہی میں وہ اپنے اہل خانہ سے ملاقات اور چار ماہ کے نومولود بچے کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے کریم نگر آئے تھے۔ اہل خانہ کے ساتھ مختصر قیام کے بعد ملازمت پر واپسی کے لیے سعودی عرب کا سفر اختیار کیا، تاہم شمش آباد میں پیش آنے والا حادثہ جان لیوا ثابت ہوا۔
حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے متاثرہ خاندان سے رابطہ کیا اور آر جی آئی اے پولیس اسٹیشن سے بھی رابطہ کرکے تعاون فراہم کیا۔
امجد اللہ خان نے عثمانیہ جنرل اسپتال کے مردہ خانے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے غمزدہ خاندان سے ملاقات کی اور محمد عظیم الدین کے انتقال پر تعزیت کی۔
انہوں نے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔



