بین الاقوامی خبریں

برطانیہ میں سیاسی پناہ مانگنے والوں کو روانڈا میں رہنا پڑے گا

لندن، 15اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانیہ میں قدامت پسند پارٹی کی حکومت نے روانڈا  Rwanda کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو لندن سے ہزاروں میل دور مشرقی افریقہ کے ملک میں رکھا جائے گا۔ حکومت کے اس فیصلے کو حزب اختلاف کے سیاستدان، پناہ گزینوں کے حقوق پر کام کرنے والے گروپ یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ یہ فیصلہ غیر انسانی ہے اور عوام کے پیسے کا زیاں ہے۔

برطانیہ کی ہوم سیکریٹری پریتی پٹیل نے جمعرات کو روانڈا کے دارلحکومت کیگالی کا دورہ کیا تاکہ اس معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں جس کو دونوں ملکوں کی حکومتیں اقتصادی فروغ میں شراکت کا نام دے رہی ہیں۔

تارکین وطن طویل عرصے سے شمالی فرانس سے کشتیوں اور ٹرکوں کے ذریعے چھپ چھپا کے برطانیہ پہنچتے رہے ہیں اور اس راستے سے آنے والوں کی تعداد میں دو ہزار بیس میں رونا وائرس کے سبب دیگر راستوں کی بندش کے بعد اضافہ ہوا ہے اور انسانی سمگلروں نے تارکین وطن کو برطانیہ پہنچانے کے لیے چھوٹی کشتیوں کا استعمال کیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 28 ہزار تارکین وطن انہی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ داخل ہوئے تھے۔ یہ تعداد2020 کے مقابلے میں ساڑھے آٹھ ہزار زیادہ تھی۔ برطانیہ پہنچنے کی کوشش میں متعدد افراد اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ گزشتہ نومبر میں ایک کشتی کے ڈوبنے سے 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب انسانی ا سمگلر کمزور لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں اور آبی گزرگارہ کو پانی کا قبرستان بنا رہے ہیں، اس رجحان کو روکنے کے لیے روانڈا کے ساتھ معاہدے جیسے اقدام کی ضرورت تھی۔

چینل کوسٹ کے نزدیک ایک تقریر میں برطانیہ کے وزیراعظم نے کہا کہ جو شخص بھی غیر قانونی طور پر برطانیہ داخل ہو گا اسے رونڈا بھجوا دیا جائے گا۔روانڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ معاہدہ بنیادی طور پر پانچ سال کا ہے اور برطانیہ نے تارکین وطن کی رہائش اور معاشرے میں ان کے ادغام کے لیے 158 ملین ڈالر ادا کر دیے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ حکام نے ان پابندیوں سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار طالبان سے کیا ہے۔روانڈا کے وزیرخارجہ ونسٹن بیروٹا نے کہا ہے کہ معاہدے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تارکین وطن محفوظ ہوں۔

ان کا احترام ملحوظ خاطر رہے اور ان کو اس قابل بنایا جائے کہ اگر وہ مستقل طور پر روانڈا میں رہنا چاہتے ہیں تو ان کو آبادکاری میں مدد دی جائے۔انہوں نے بتایا کہ ان کا ملک پہلے ہی برونڈی، کانگو، لیبیا سے آنے والے 13لاکھ مہاجرین کا گھر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button