ایران میں قید بلجیم کے امدادی کارکن کو 28 سال قید کی سزا
41 برس کے اولیور وینڈی کاسٹیلی تقریباً ایک سال سے ایران کی حراست میں ہیں۔
Olivier Vandecasteele تہران،15دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایران نے بلجیم کے ایک امدادی کارکن اولیور وینڈی کاسٹیلی Olivier Vandecasteele کو 28 سال قید کی سزا سنائی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ذرائع نے بلجیم کے ایک اخبار ہٹ نیوز بلاڈ نے اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ منگل کو وزیراعظم الیگزینڈر ڈی کروو اور ان کی کابینہ کے دیگر ارکان نے امدادی کارکن کے اہل خانہ کو سزا سے متعلق آگاہ کیا۔امکان ہے کہ اس سلسلے میں وزیر انصاف وِنسینٹ وان کوئکن بورن پارلیمان کے سوالوں کے جوابات دیں گے۔41 برس کے اولیور وینڈی کاسٹیلی تقریباً ایک سال سے ایران کی حراست میں ہیں۔ ان پر عائد الزامات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔بلجیم نے بارہا کہا ہے کہ ان کو حراست میں رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔
ایرانی حکام نے فی الحال اس پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔امدادی کارکن کے خاندان کے ترجمان نے ہٹ نیوز بلاڈ کو بتایا کہ ’یہ اولیور اور ان کے خاندان کے لیے توہین اور صدمہ ہے‘ ۔ان کے مطابق ’وہ معصوم ہیں اور بڑے پیمانے پر ایک مشکوک بین الاقوامی گیم کا شکار ہوئے۔گزشتہ ہفتے بلجیم کی عدالت نے ایران اور بلجیم کے درمیان ایک معاہدہ معطل کیا تھا جس کے تحت دونوں ملکوں کے مابین قیدیوں کا تبادلہ ہو سکتا تھا۔یہ معاہدہ اولیور وینڈی کاسٹیلی کے خاندان کے لیے واحد امید تھی۔ بلجیم کی میڈیا کے مطابق انہیں ایرانی قیدی اسداللہ اسدی کے بدلے رہائی مل سکتی تھی۔گذشتہ برس اسداللہ اسدی کو بلجیم کی عدالت نے 20 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ ان پر پیرس میں بم نصب کرنے کا الزام ہے۔



